اسلام آباد: ایل پی جی کی قیمتیں بڑھنے سے پاکستانی صارفین کو مشکلات کا سامنا ہے، حالانکہ ایران کی سرحد کھل چکی ہے۔ پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدی گزرگاہوں پر تجارتی سرگرمیاں متاثر ہونے کے بعد، ایل پی جی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ صارفین کی شکایات ہیں کہ ایک ہفتہ قبل تقریباً چار ہزار روپے میں ملنے والا سیلنڈر اب چھ سے سات ہزار روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔
ہوٹل مالکان اور ڈسٹری بیوٹرز نے بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایل پی جی انڈسٹری سے وابستہ افراد نے قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ گیس کی فراہمی اور حکومتی نگرانی پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو اس معاملے میں فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ صارفین کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ایک گھریلو خاتون، صائمہ بی بی، نے بتایا کہ سیلنڈر کی قیمت میں اضافے نے عام آدمی کے لیے کھانا پکانے کے اخراجات پورے کرنا مشکل بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مہنگائی کے دور میں، روزمرہ کی ضروریات پوری کرنا بھی ایک چیلنج بن چکا ہے۔
حکومت کی جانب سے اس مسئلے پر کوئی واضح حکمت عملی سامنے نہیں آئی ہے، جس کی وجہ سے عوام میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ اگرچہ ایران کی سرحد کھل چکی ہے، لیکن اس کے باوجود ایل پی جی کی قیمتوں میں کمی کی کوئی امید نظر نہیں آ رہی۔