اسلام آباد: یورپ میں سائبر حملے کی وجہ سے بڑی مقدار میں خوراک ضائع ہو رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں، سینکڑوں فریجوں اور فریزرز پر ہیکرز نے حملہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں سپر مارکیٹوں میں خوراک کا درجہ حرارت 50 سے 70 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف خوراک کی فراہمی کو متاثر کر رہی ہے بلکہ عوامی صحت کے لیے بھی خطرہ بن گئی ہے۔
یورپ کی بڑی مارکیٹوں میں یہ حملے ایک منظم کوشش کا حصہ معلوم ہوتے ہیں، جس کے ذریعے ہیکرز نے مختلف سپر مارکیٹوں کے نظام میں دراندازی کی ہے۔ اس کے نتیجے میں، لاکھوں ڈالر کی خوراک ضائع ہو رہی ہے، جو کہ ایک سنگین مسئلہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے سائبر حملے مستقبل میں بھی جاری رہ سکتے ہیں، جس سے خوراک کی سیکیورٹی پر سوالات اٹھتے ہیں۔
حملوں کے بعد، متعلقہ اداروں نے فوری طور پر حفاظتی اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ سپر مارکیٹوں کی انتظامیہ نے ہیکنگ کے خطرات کو کم کرنے کے لیے جدید سیکیورٹی سسٹمز کی تنصیب کا آغاز کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ، صارفین کو بھی آگاہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی خریداری کے دوران محتاط رہیں۔
یہ حملے یورپ کی معیشت پر بھی منفی اثر ڈال سکتے ہیں، کیونکہ خوراک کی فراہمی میں خلل آنے سے قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کا جلد حل نکالنا ضروری ہے تاکہ عوامی صحت اور معیشت دونوں کو محفوظ رکھا جا سکے۔