فیصل آباد: نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے فیصل آباد میں ایک کامیاب اور بڑی کارروائی کرتے ہوئے چائلڈ پورنو گرافی اور نازیبا ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل کرنے والے مرکزی ملزم خرم شہزاد کو گرفتار کر لیا ہے۔ ایجنسی کے ترجمان کے مطابق ملزم طویل عرصے سے انٹرنیٹ اور مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر معصوم بچوں سے متعلق غیر اخلاقی اور نازیبا مواد شیئر کرنے کے مجرمانہ عمل میں ملوث تھا ، جس پر تکنیکی شواہد کی روشنی میں یکایک چھاپہ مارا گیا۔
سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے حکام نے میڈیا کو بتایا کہ ملزم خرم شہزاد نازیبا مواد اور ویڈیوز کو سوشل میڈیا نیٹ ورکس کے ذریعے پھیلانے کا کام کر رہا تھا۔ خفیہ معلومات اور جدید آئی پی ٹریکنگ ڈیوائسز کے ماہرانہ استعمال کی بدولت سائبر ٹیم نے فیصل آباد میں ملزم کی نشاندہی کی اور اسے موقع پر گرفتار کر لیا۔ اس اہم کارروائی کے دوران ملزم کے قبضے سے انتہائی حساس نوعیت کا مواد ، لیپ ٹاپس ، سمارٹ فونز اور متعدد ڈیجیٹل ڈیوائسز بھی برآمد کی گئی ہیں۔
ایجنسی کے سینئر حکام کا کہنا ہے کہ چائلڈ پورنو گرافی جیسے بھیانک اور سنگین جرائم میں ملوث عناصر پورے معاشرے کے لیے ایک بدترین ناسور ہیں۔ ایسے مجرمان نہ صرف معصوم بچوں کے بنیادی حقوق اور ان کے مستقبل کو تبا ہ کرتے ہیں بلکہ سماجی و اخلاقی قدروں کی بھی شدید خلاف ورزی کرتے ہیں۔ پولیس اور سائبر ایجنسی نے گرفتار ملزم خرم شہزاد کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر کے باقاعدہ تفتیش اور تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کر دیا ہے۔
ابتدائی تفتیش اور برآمد شدہ آلات کے فنی معائنے سے انکشاف ہوا ہے کہ ملزم کسی منظم آن لائن نیٹ ورک کا حصہ بھی ہو سکتا ہے۔ سائبر ماہرین اب ملزم کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس ، ای میلز اور میسجنگ گروپس کا تفصیلی ڈیٹا حاصل کر رہے ہیں تاکہ اس گھناؤنے دھندے میں شامل دیگر تمام کرداروں کا بھی پتہ لگایا جا سکے۔ ادارے کے ترجمان نے عزم ظاہر کیا ہے کہ معصوم بچوں کے استحصال میں شامل کسی بھی شخص کو رعایت نہیں دی جائے گی۔
قومی سطح پر چائلڈ پورنو گرافی اور آن لائن ہراسانی کے خلاف گزشتہ کچھ عرصے سے کریک ڈاؤن میں نمایاں تیزی لائی گئی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سماجی حلقوں نے سائبر ایجنسی کی اس بروقت اور کامیاب کارروائی کو انتہائی سراہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معصوم بچوں کو انٹرنیٹ کی دنیا میں محفوظ ماحول فراہم کرنا حکومت اور قانون نافذ کرنے والے تمام اداروں کی اولین ترجیح ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
سائبر ایجنسی نے عوام الناس اور بالخصوص والدین پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی ڈیجیٹل سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں۔ کسی بھی غیر اخلاقی مواد یا آن لائن ہراسانی کی صورت میں ایجنسی کی ہیلپ لائن پر فوری رپورٹ درج کروائیں تاکہ بروقت قانونی چارہ جوئی کی جا سکے۔ حکام کے مطابق اس قسم کی کامیاب کارروائیوں کا بنیادی مقصد آن لائن کرائمز کا خاتمہ اور شہریوں کے لیے انٹرنیٹ کو محفوظ بنانا ہے۔