اسلام آباد: برینٹ تیل کی قیمتیں دسمبر میں 105 ڈالر تک پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ گولڈمین سیکس نے اپنی پیش گوئی میں اضافہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی تیل کی رسد میں بڑھتے ہوئے خطرات کی وجہ سے یہ اضافہ ممکن ہے۔ اس نئی پیش گوئی میں 17 فیصد کا اضافہ شامل ہے، جو پہلے 90 ڈالر کی سطح سے بڑھ کر 105 ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔
گولڈمین سیکس نے 2027 کے لیے بھی اپنی برینٹ تیل کی قیمت کی پیش گوئی کو 80 ڈالر سے بڑھا کر 88 ڈالر کر دیا ہے۔ دیگر بڑے مالیاتی اداروں نے بھی تیل کی قیمتوں میں اضافے کی پیش گوئی کی ہے۔ اے این زیڈ نے بھی کہا ہے کہ برینٹ تیل کی قیمتیں 2026 کے آخر تک 105 ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں، جبکہ یو بی ایس نے 110 ڈالر کے قریب قیمتوں کی توقع ظاہر کی ہے۔
یہ پیش گوئیاں عالمی مارکیٹ میں تیل کی طلب اور رسد کے توازن کی عکاسی کرتی ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں یہ اضافہ عالمی اقتصادی حالات، سیاسی عدم استحکام اور دیگر عوامل کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ رجحان جاری رہا تو صارفین کو تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس کے علاوہ، تیل کی قیمتوں میں اضافے کا اثر عالمی معیشت پر بھی پڑ سکتا ہے، جس سے مہنگائی میں اضافہ اور صارفین کی قوت خرید میں کمی ہو سکتی ہے۔ اس صورتحال پر نظر رکھنا ضروری ہے تاکہ مستقبل میں تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کا بہتر اندازہ لگایا جا سکے۔