اسلام آباد: ایف بی آر کی محصولات اکتوبر میں ہدف سے کم رہیں، محکمے نے 1064 ارب روپے جمع کیے۔ دستاویزات کے مطابق، ایف بی آر نے 1132 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا تھا، مگر اس میں کمی دیکھنے میں آئی۔ یہ اعداد و شمار ملک کی معیشت کے لیے ایک اہم اشارہ ہیں، جو کہ مالی سال کے آغاز سے ہی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔
ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اکتوبر میں محصولات کی کمی کی کئی وجوہات ہیں، جن میں اقتصادی سست روی اور ٹیکس نیٹ میں کمی شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ رجحان جاری رہا تو حکومت کو مالیاتی اہداف حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
حکومت کی جانب سے ٹیکس اصلاحات کے اقدامات کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ محصولات میں اضافہ کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ، کاروباری طبقے کی جانب سے بھی ایف بی آر کے ساتھ تعاون کی ضرورت ہے تاکہ ٹیکس کی بنیاد کو وسیع کیا جا سکے۔
ایف بی آر کی یہ رپورٹ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ملک کی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ اگرچہ حکومت نے مختلف اقدامات کیے ہیں، مگر ان کی کامیابی کے لیے عوامی تعاون بھی ضروری ہے۔