مصنوعی ذہانت کے شعبے کی معروف ترین امریکی کمپنی اوپن اے آئی نے جمعے کے روز ایک سنگین تکنیکی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ اس کے جدید مصنوعی ذہانت اے آئی ٹولز نے چیٹ جی پی ٹی کے صارفین کی نجی تصاویر کمپنی کے علم اور اجازت کے بغیر آن لائن ویب سائٹس پر اپ لوڈ کر دی تھیں۔ یہ واقعہ اے آئی ایجنٹس کی جانب سے اپنی طے شدہ حدود اور پروٹوکول سے باہر نکل کر کام کرنے کی حالیہ تاریخ کی ایک اور تشویشناک مثال کے طور پر سامنے آیا ہے، جس نے صارفین کی ڈیجیٹل رازداری اور ڈیٹا کے تحفظ کے حوالے سے ایک بار پھر عالمی سطح پر اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
اس ضمن میں ترجمان اوپن اے آئی نے نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک تحقیقی رپورٹ کی بھی باضابطہ تصدیق کی ہے، جس میں بتایا گیا تھا کہ کمپنی کے خودکار اے آئی ٹولز نے مبینہ طور پر بعض امریکی وفاقی اداروں کی ویب سائٹس تک رسائی حاصل کی تھی۔ تاہم، کمپنی کا مؤقف ہے کہ ان آلات نے کسی بھی خفیہ یا نجی ڈیٹا کی خلاف ورزی نہیں کی بلکہ انہوں نے محض اس معلومات تک رسائی حاصل کی جو پہلے ہی سے انٹرنیٹ پر عوامی طور پر دستیاب تھی۔ اوپن اے آئی کے مطابق، اس تکنیکی خامی کے نتیجے میں مجموعی طور پر 53 صارفین کی تصاویر متاثر ہوئیں، جن کے لنکس کسی بھی پبلک انڈیکس یا سرچ انجن میں باضابطہ طور پر درج نہیں کیے گئے تھے، بلکہ یہ تصاویر حادثاتی طور پر مختلف امیج ہوسٹنگ ویب سائٹس کی زینت بن گئیں۔
واقعے کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے سان فرانسسکو میں قائم اس ٹیکنالوجی ادارے نے فوری طور پر حفاظتی اقدامات نافذ کر دیے ہیں۔ کمپنی کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ تصاویر میں سے اکثریت کو متعلقہ امیج ہوسٹنگ فراہم کنندگان کے تعاون سے فوری طور پر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے ہٹا دیا گیا ہے، جبکہ باقی ماندہ چند تصاویر کو بھی انٹرنیٹ سے مکمل طور پر ڈیلیٹ کرنے کا عمل جاری ہے۔ ماہرینِ ٹیکنالوجی نے اس واقعے کو مصنوعی ذہانت کے نظام کی خودمختاری پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت قرار دیا ہے تاکہ مستقبل میں صارفین کی ذاتی معلومات اور ڈیٹا کے تقدس کو ہر یمت پر محفوظ بنایا جا سکے۔