وزیراعظم کا محمود خان اچکزئی کو خط

ملک کے سیاسی منظر نامے میں ایک بار پھر ہلچل اس وقت دیکھنے میں آئی جب وزیراعظم شہباز شریف نے اپوزیشن اتحاد کے رہنما اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کو ایک بار پھر مکتوب ارسال کرتے ہوئے ملک میں سیاسی استحکام کے حصول کے لیے باضابطہ طور پر مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق، وزیراعظم ہاؤس سے بھیجے گئے اس اہم خط میں موجودہ ملکی حالات، معاشی چیلنجز اور پارلیمانی جمہوریت کے استحکام کے تناظر میں تمام سیاسی قوتوں کے درمیان مفاہمت اور قومی یکجہتی پر زور دیا گیا ہے۔ وزیراعظم کا ماننا ہے کہ ملک کو اس وقت جن گوناگوں مسائل کا سامنا ہے، ان سے نبرد آزما ہونے کے لیے حکومت اور اپوزیشن کے مابین نتیجہ خیز اور پائیدار ڈائیلاگ کا آغاز ناگزیر ہو چکا ہے۔سیاسی تجزیہ کاروں کا اس پیشرفت کے حوالے سے کہنا ہے کہ یہ قدم حکومت کی طرف سے کشیدگی کو کم کرنے اور سیاسی درجہ حرارت کو نیچے لانے کی ایک سنجیدہ کوشش قرار دیا جا سکتا ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی نے ملکی ترقی اور قانون سازی کے عمل کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خط میں اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان کے مفاد کو کسی بھی ذاتی یا سیاسی اختلاف پر فوقیت دی جانی چاہیے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ محمود خان اچکزئی سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس دعوت کو مثبت انداز میں قبول کریں گے اور ملک کو درپیش بحرانوں سے نکالنے کے لیے ایک مشترکہ لائحہ عمل طے کرنے میں اپنا مثبت اور کلیدی کردار ادا کریں گے۔ دوسری جانب، اپوزیشن حلقوں اور محمود خان اچکزئی کی جماعت کی طرف سے تاحال اس نئے مکتوب پر کوئی حتمی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ موصولہ خط پر سنجیدگی سے غور و خوض کیا جا رہا ہے اور اتحادیج جماعتوں کے آئندہ اجلاس میں اس پر مشاورت کے بعد ہی کوئی واضح لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ اپوزیشن کا مؤقف رہا ہے کہ مذاکرات کے دروازے کبھی بند نہیں کیے جانے چاہئیں، لیکن اس کے لیے ماحول کا سازگار ہونا اور باضابطہ ایجنڈے کا طے پانا انتہائی ضروری ہے۔ ادھر سیاسی پنڈتوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگر دونوں فریقین مذاکرات کی میز پر بیٹھنے پر رضامند ہو جاتے ہیں تو اس سے نہ صرف جمہوریت کو تقویت ملے گی بلکہ ملک میں جاری معاشی اور سیاسی بے یقینی کے بادل بھی چھٹنے میں مدد ملے گی، جو کہ اس وقت عام آدمی کی بنیادی ضرورت ہے۔