سندھ کے سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کی زیر صدارت ایک اہم اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے بھر میں پھیلنے والی جعلی، جھوٹی اور گمراہ کن اطلاعات کا سدباب کرنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی طے کی گئی۔ اجلاس میں اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا کہ سوشل میڈیا اور بعض مین اسٹریم میڈا پلیٹ فارمز پر روزانہ کی بنیاد پر بے بنیاد خبریں گردش کر رہی ہیں جن کا مقصد عوام میں انتشار پھیلانا، معاشرتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانا اور اداروں کے خلاف منفی پروپیگنڈا کرنا ہے۔ حکومت نے اس سنگین صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے اب روایتی اور ڈیجیٹل میڈیا دونوں پر سخت ترین نظر رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ کسی بھی افواہ یا من گھڑت کہانی کو فوری طور پر روکا جا سکے۔
اجلاس کے دوران بریفنگ دیتے ہوئے متعلقہ حکام نے بتایا کہ ڈیجیٹل میڈیا سیل اور سائبر کرائم یونٹ کو اس مقصد کے لیے مزید فعال اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس کر دیا گیا ہے۔ اب تمام اہم خبروں، سوشل میڈیا کے وائرل کلپس اور ٹرینڈز کی چوبیس گھنٹے مانیٹرنگ کی جائے گی تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ جھوٹی کہانیاں کہاں سے اور کن عناصر کی طرف سے جنم لے رہی ہیں۔ سینئر وزیر شرجیل میمن نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ آزادی اظہارِ رائے کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ کوئی بھی شخص یا گروپ ذاتی مفادات یا سیاسی مقاصد کے لیے جھوٹ اور بہتان تراشی کا بازار گرم رکھے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائی جانے والی نفرت انگیز اور جعلی خبروں کے خالقین اور سہولت کاروں کے خلاف بغیر کسی تفریق کے سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
صوبائی وزیر نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ حکومت میڈیا کی حقیقی آزادی اور مثبت تنقید کا مکمل احترام کرتی ہے، لیکن اس آزادی کے نام پر معاشرتی بگاڑ پیدا کرنے اور ریاستی رِٹ کو چیلنج کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے میڈیا ہاؤسز، صحافتی تنظیموں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذمہ داران سے بھی پرزور اپیل کی کہ وہ خبروں کی اشاعت سے قبل ان کی تصدیق فیکٹ چیکنگ کو اپنا بنیادی شعار بنائیں تاکہ عوام تک صرف مستند، حقائق پر مبنی اور مصدقہ معلومات پہنچیں۔ حکومتِ سندھ کے اس بروقت اور سخت اقدام کو سول سوسائٹی اور سنجیدہ حلقوں کی جانب سے سراہا جا رہا ہے، اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس مانیٹرنگ کے نتیجے میں افواہ ساز عناصر کی حوصلہ شکنی ہوگی۔