تہران میں خواتین کے بیک وقت دو مختلف مارچز نے عالمی توجہ مبذول کرلی

ی اطلاعات کے مطابق، پہلے مارچ میں شامل خواتین نے تہران کے مرکزی شاہراہوں پر منعقدہ 10 کلومیٹر دوڑ میں بھرپور انداز میں شرکت کی۔ اس پرامن دوڑ کے دوران بعض خواتین نے اپنے سروں سے اسکارف ہٹا رکھے تھے اور ان کے بال کھلے ہوئے تھے، جسے سوشل میڈیا اور عالمی حلقوں میں ایک علامتی اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ منتظمین کا کہنا تھا کہ اس دوڑ کا مقصد خواتین میں صحت مندانہ سرگرمیوں کو فروغ دینا اور جسمانی فٹنس کی اہمیت کو اجاگر کرنا تھا، تاہم اس میں شریک خواتین کے لباس اور ظاہری حلیے نے سیاسی اور سماجی حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے کیونکہ حالیہ برسوں میں ایران میں حجاب کے قوانین کے حوالے سے سخت عوامی اور قانونی کشمکش دیکھنے میں آئی ہے۔

دوسری جانب، عین اسی روز تہران کے دوسرے حصے میں ایک اور بڑا اجتماع منعقد ہوا جس میں بڑی تعداد میں قدامت پسند اور روایتی سوچ رکھنے والی خواتین نے شرکت کی۔ اس مارچ کا مقصد اسلامی اقدار، ثقافتی روایات اور لازمی حجاب کی حمایت کرنا تھا۔ شرکاء نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور نعرے بازی کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ایرانی معاشرے کی بقا اور اسلامی تشخص کے تحفظ کے لیے روایتی اقدار پر عمل پیرا رہنا ناگزیر ہے۔ مبصرین کے مطابق، تہران کی سڑکوں پر بیک وقت ان دو متضاد اجتماعات کا انعقاد اس بات کا غماز ہے کہ ایرانی معاشرہ اس وقت ایک انتہائی حساس دور سے گزر رہا ہے جہاں جدیدیت اور روایت پسندی کی کشمکش شدت اختیار کرتی جا رہی ہے، اور حکام بھی اس صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔