خیبر پختونخوا: مذاکرات میں ڈیڈلاک، 27 ستمبر کے بعد ہی بات ہوگی

پشاور:خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے واضح کیا ہے کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں کسی بھی قسم کی پیشرفت کا کوئی امکان باقی نہیں رہا، اور اب حکومت یا دیگر فریقین کے ساتھ تمام تر امور پر بات چیت 27 ستمبر کو ہونے والے متوقع مارچ کے بعد ہی کی جائے گی۔ انہوں نے یہ اہم بیان ایک نجی ٹی وی چینل کے حالاتِ حاضرہ کے مشہور پروگرام ’سوال یہ ہے‘ میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت اپنے مؤقف پر ڈٹی ہوئی ہے اور فی الحال مذاکرات کے دروازے بند تصور کیے جائیں کیونکہ فریق مقابل کی جانب سے سنجیدہ رویہ اختیار نہیں کیا جا رہا

پروگرام کے دوران میزبان کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے شفیع جان کا کہنا تھا کہ سیاسی سطح پر کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کی ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سیاسی تجزیہ کاروں اور متعلقہ حلقوں کو اس امر پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہ آخر ایسی کیا وجوہات ہیں جن کی وجہ سے عوام اور سیاسی جماعتوں کو سڑکوں پر نکل کر احتجاجی مارچ کرنے کی نوبت پیش آ رہی ہے۔ ان کے مطابق، جب جمہوری راستے اور مکالمے کے تمام دروازے بند کر دیے جاتے ہیں تو پھر احتجاج اور مارچ ہی آخری آپشن بچ جاتا ہے، جسے روکنے کے لیے جبر کی بجائے سیاسی تدبر کی ضرورت ہوتی ہے۔

معاون خصوصی نے مزید کہا کہ صوبائی انتظامیہ اور پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کی طرف سے 27 ستمبر کے احتجاجی مارچ کی تیاریاں بھرپور انداز میں جاری ہیں اور اس میں کسی بھی قسم کی پس و پیش سے کام نہیں لیا جائے گا۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ اب جب تک طے شدہ سیاسی لائحہ عمل کے تحت مارچ منعقد نہیں ہو جاتا، کسی بھی قسم کے بیک ڈور رابطوں یا مذاکرات کی کوئی گنجائش باقی نہیں بچی۔ صوبائی حکومت اپنے آئینی اور سیاسی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گی اور اس حوالے سے کارکنان کو بھی متحرک کر دیا گیا ہے تاکہ احتجاج کو کامیاب بنایا جا سکے اور موجودہ حکومت پر جائز مطالعے تسلیم کرنے کے لیے دباؤ بڑھایا جا سکے۔