واشنگٹن: مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران کے خلاف جنگ کے باعث عالمی توانائی کی ترسیل متاثر ہونے سے امریکا میں ڈیزل کے نرخ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔
امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن (AAA) کے مطابق، امریکا میں ڈیزل کی اوسط قیمت بڑھ کر 5.85 ڈالر فی گیلن ہو گئی ہے، جو کہ ٹھیک ایک سال قبل 3.71 ڈالر تھی۔ اس ریکارڈ اضافے نے جون 2022 کا سابقہ ریکارڈ (5.81 ڈالر) بھی توڑ دیا ہے۔
ڈیزل تجارتی مال برداری، سڑکوں کے ذریعے نقل و حمل، زراعت اور تعمیراتی شعبے کے لیے بنیادی ایندھن کی حیثیت رکھتا ہے، جس کی وجہ سے اس کی قیمتوں میں اضافے کا براہِ راست اثر روزمرہ اشیاء کی لاگت اور مہنگائی پر پڑنے کا خدشہ ہے۔
مشرق وسطیٰ کے بحران کو 6 ماہ گزر چکے ہیں اور نومبر میں ہونے والے اہم امریکی وسط مدتی انتخابات میں محض چند ہفتے باقی ہیں، جہاں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ایندھن کے نرخ امریکی ووٹرز کے لیے ایک بڑا اور حساس مسئلہ بنے ہوئے ہیں۔ توانائی کے ماہرین کے مطابق، فروری کے اواخر میں شروع ہونے والے فوجی حملوں اور آبنائے ہرمز سمیت اہم بحری راستوں میں ترسیل متاثر ہونے کے بعد سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل تیزی دیکھی جا رہی ہے۔