چینی سائنس دانوں نے میگ لیو ٹیکنالوجی میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے ایک تجرباتی ٹرین کو صرف 5.3 سیکنڈ میں صفر سے 800 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار تک پہنچا دیا۔
چینی حکام کے مطابق تقریباً 1,157 کلوگرام وزنی اس تجرباتی ٹرین نے مختصر فاصلے میں تیز رفتاری کا عالمی ریکارڈ قائم کیا ہے۔ گزشتہ چھ ماہ کے دوران یہ تیسرا موقع ہے جب چین نے اس شعبے میں اپنا ریکارڈ توڑا ہے۔
یہ تجربہ چین کی ڈانگہو لیبارٹری میں کیا گیا۔ تاہم یہ ٹرین فی الحال مسافروں کے سفر کے لیے استعمال نہیں کی جاسکتی، کیونکہ یہ ایک تجرباتی منصوبہ ہے۔
میگ لیو ٹرینیں مقناطیسی نظام کے ذریعے پٹڑی سے اوپر معلق رہتی ہیں، جس سے روایتی ریل گاڑیوں میں موجود رگڑ بڑی حد تک ختم ہوجاتی ہے اور انتہائی تیز رفتاری حاصل کرنا ممکن ہوتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جون 2025 میں اسی تجرباتی گاڑی نے 7.1 سیکنڈ میں تقریباً 650 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کرکے مختصر فاصلے میں تیز رفتاری کا عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا۔ بعد ازاں جولائی اور نومبر میں بھی رفتار کے نئے ریکارڈ قائم کیے گئے۔
ان تجربات کے دوران ہائی پاور توانائی کی ترسیل، مقناطیسی معطلی، درست پوزیشننگ، برقی مقناطیسی پروپلشن اور ہنگامی بریکنگ سمیت کئی جدید ٹیکنالوجیز کو آزمایا گیا۔
ماہرین کے مطابق اتنی زیادہ رفتار تک چند سیکنڈ میں پہنچنے کے لیے انتہائی طاقتور توانائی اور درست کنٹرول سسٹم کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے مستقبل میں تیز رفتار نقل و حمل کے علاوہ راکٹ اور دیگر جدید شعبوں میں استعمال کے امکانات بھی موجود ہیں۔
چین پہلے ہی دنیا میں میگ لیو ٹرین ٹیکنالوجی کے حوالے سے نمایاں مقام رکھتا ہے، تاہم طیاروں جیسی رفتار سے مسافروں کی روزمرہ نقل و حمل کے لیے اس ٹیکنالوجی کو تجارتی سطح پر استعمال کرنے میں ابھی کئی تکنیکی اور معاشی چیلنجز موجود ہیں۔