سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجا ناصر عباس نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت سے متعلق جان بوجھ کر ابہام پیدا کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد پارٹی میں اختلافات پیدا کرنا ہے۔اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راجا ناصر عباس نے کہا کہ وہ وزیر داخلہ محسن نقوی کی سسٹم کولیپس سے متعلق بات کی تائید کرتے ہیں، تاہم اس کے لیے تجویز کردہ طریقہ درست نہیں۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن حقیقی عوامی نمائندہ حکومت کے قیام کی خواہاں ہے۔ حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات کی ناکامی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے کی وجوہات سے آگاہ ہیں۔راجا ناصر عباس نے بتایا کہ مذاکرات کے لیے اڈیالہ جیل جانے سے قبل خیبرپختونخوا ہاؤس میں اجلاس ہوا تھا۔ ان کے مطابق جیل پہنچنے پر عمران خان نے خود گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ نہ بنی گالہ جائیں گے اور نہ ہی کسی ڈیل کا حصہ بنیں گے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان باوقار انداز میں عزت کے ساتھ باہر آنا چاہتے ہیں اور ان کا توکل اللہ تعالیٰ پر ہے، انہیں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کوئی امید نہیں۔
اپوزیشن لیڈر نے مزید کہا کہ انہیں سڑکوں پر آنے پر مجبور کیا گیا ہے، اگر اس بار سڑکوں پر آئے تو وہ خود سب سے آگے ہوں گے۔
راجا ناصر عباس کا کہنا تھا کہ وہ موجودہ حکومت کو قانونی طور پر تسلیم نہیں کرتے، اسی لیے وزیر اعظم ہاؤس یا اسپیکر آفس میں مذاکرات کے ذریعے حکومت کو قانونی جواز فراہم نہیں کرنا چاہتے۔
انہوں نے کہا کہ ان کا عمران خان سے عہد ہے کہ وہ مرتے دم تک ان کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔ ان کے مطابق عمران خان اور عوام کے درمیان کوئی تیسرا فریق نہیں ہے۔