اسلام آباد: اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرائی گئی تفصیلی رپورٹ میں بشریٰ بی بی کو قیدِ تنہائی میں رکھنے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں قانون کے مطابق تمام سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔رپورٹ کے مطابق بشریٰ بی بی کے ساتھ کسی قسم کا امتیازی یا غیر مساوی سلوک نہیں کیا جا رہا اور وہ جیل قوانین کے مطابق اپنی سزا کاٹ رہی ہیں۔ جیل حکام کا مؤقف ہے کہ ملک کے کسی بھی جیل نظام میں اب قیدِ تنہائی کا تصور موجود نہیں، جبکہ عدالتیں بھی طویل عرصے سے ایسی سزا نہیں دے رہیں۔سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے بتایا کہ سابق وزیراعظم کی اہلیہ ہونے کے باعث بشریٰ بی بی کی سکیورٹی کے پیشِ نظر اضافی انتظامات کیے گئے ہیں، اسی لیے عام خواتین قیدیوں کو ان کی رہائش گاہ تک رسائی کی اجازت نہیں دی جاتی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بشریٰ بی بی کو جیل کے مخصوص احاطے میں آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت حاصل ہے، جہاں ایک بڑا کمرہ، علیحدہ صحن اور الگ باورچی خانہ موجود ہے۔ وہ دن کے اوقات میں آزادانہ طور پر نقل و حرکت کر سکتی ہیں، جبکہ شام کے وقت قواعد کے مطابق کمرہ بند کر دیا جاتا ہے۔جیل حکام کے مطابق خاتون میڈیکل آفیسر روزانہ کم از کم دو مرتبہ ان کا طبی معائنہ کرتی ہیں، جس میں بلڈ پریشر اور دیگر ضروری طبی علامات کا جائزہ لیا جاتا ہے، جبکہ ضرورت پڑنے پر خصوصی طبی معائنہ بھی کیا جاتا ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بشریٰ بی بی کی دیکھ بھال کے لیے خواتین جیل افسران اور عملہ تعینات ہے، جبکہ دو خواتین وارڈر ہر وقت ان کے ساتھ موجود رہتی ہیں، جو کھانے کی تیاری اور دیگر روزمرہ ضروریات کا خیال رکھتی ہیں۔ انہیں قدرتی روشنی اور تازہ ہوا کی سہولت بھی حاصل ہے۔جیل مینوئل کے مطابق بشریٰ بی بی کو ہر منگل کے روز اپنے شوہر، بانی پاکستان تحریک انصاف، سے ملاقات کی اجازت دی جاتی ہے۔جیل حکام نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ بشریٰ بی بی کی بیٹی کی جانب سے دائر درخواست کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کیا جائے، کیونکہ قیدِ تنہائی سے متعلق الزامات حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔