امریکا نے ایران پر تیل کی پابندیاں دوبارہ عائد کر دیں، فضائی حملے بھی شروع

واشنگٹن: امریکا نے ایران پر تیل فروخت کرنے کی پابندیاں دوبارہ عائد کر دی ہیں۔ امریکی وزارتِ خزانہ کے مطابق یہ فیصلہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر ایرانی حملوں کے بعد کیا گیا۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کو جہازوں پر حملوں کے نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔ پہلے ایران کو 21 اگست تک تیل فروخت کرنے کی اجازت تھی، تاہم نئی پابندیوں کے تحت اس مدت کو کم کرکے 17 جولائی تک محدود کر دیا گیا ہے۔امریکی پابندیوں کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں 5 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے تصدیق کی ہے کہ ایران میں مخصوص اہداف پر فضائی کارروائیاں کی گئی ہیں۔ سینٹکام کے مطابق یہ کارروائیاں آبنائے ہرمز میں تین تجارتی جہازوں پر ایرانی حملوں کے ردعمل میں کی جا رہی ہیں۔سینٹکام کا کہنا ہے کہ فوجی آپریشن کا مقصد مستقبل میں ایسے حملوں کو روکنا اور بین الاقوامی سمندری راستوں کو محفوظ بنانا ہے۔