یمن میں سرگرم سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے حوثی باغیوں کو سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب یا اس کے اہم مفادات کو نشانہ بنانے کی کوئی بھی کوشش کی گئی تو اس کا فوری، بھرپور اور غیر معمولی فوجی طاقت کے ساتھ جواب دیا جائے گا۔یہ بیان حوثی باغیوں کی جانب سے سامنے آنے والی حالیہ دھمکیوں کے بعد جاری کیا گیا، جن میں سعودی عرب پر یمنی فضائی حدود کی مسلسل خلاف ورزیوں کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ حوثیوں نے دعویٰ کیا تھا کہ اگر مبینہ فضائی خلاف ورزیاں بند نہ کی گئیں تو وہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں، بندرگاہوں، زمینی تنصیبات اور دیگر حساس مقامات کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔سعودی اتحاد نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ مملکت کی خودمختاری، قومی سلامتی اور عوام کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ اتحاد کے مطابق دفاعی فورسز ہر قسم کی ممکنہ جارحیت کا مؤثر جواب دینے اور خطے کے امن و استحکام کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔دفاعی و علاقائی امور کے ماہرین کا کہنا ہ کہ دونوں جانب سے سخت بیانات کے تبادلے کے بعد خطے میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جس سے سلامتی کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ مبصرین کے مطابق اگر سفارتی کوششوں میں پیش رفت نہ ہوئی تو صورتحال مزید سنگین رخ اختیار کر سکتی ہے۔