غزہ پر اسرائیلی حملوں کو ایک ہزار دن مکمل، تباہی اور انسانی بحران مزید سنگین

غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو ایک ہزار دن مکمل ہو گئے ہیں، جبکہ علاقے میں لڑائی، فضائی حملے اور انسانی بحران بدستور جاری ہیں۔7 اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی جنگ کے بعد غزہ میں وسیع پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔ مختلف علاقوں میں بنیادی ڈھانچے، رہائشی عمارتوں اور عوامی سہولیات کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔ عالمی برادری اور متعدد ممالک کی جانب سے جنگ بندی اور انسانی امداد کی فراہمی کے مطالبات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔دوسری جانب مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی کشیدگی برقرار ہے۔ تازہ رپورٹس کے مطابق جنین کے قریب فلسطینیوں کی ملکیتی اراضی پر بلڈوزر چلائے گئے، جہاں زیتون کے تقریباً 500 درخت اکھاڑ دیے گئے۔رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سال 2020 سے اب تک مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک لاکھ 20 ہزار سے زائد زیتون کے درخت کاٹے گئے یا مختلف طریقوں سے تباہ کیے گئے ہیں۔انسانی حقوق سے متعلق رپورٹس کے مطابق رواں سال کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز کی کارروائیوں اور آبادکاروں کے حملوں میں 11 فلسطینی جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ 866 فلسطینیوں کو حراست میں لیا گیا، جن میں 35 بچے اور 21 خواتین بھی شامل ہیں۔غزہ میں انسانی صورتحال بدستور تشویشناک ہے۔ 20 لاکھ سے زائد فلسطینی خوراک، صاف پانی، طبی سہولیات اور رہائش سمیت بنیادی ضروریات کی شدید قلت کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ بڑی تعداد میں خاندان بے گھر ہو چکے ہیں۔