سونے اور چاندی کی قیمتوں میں نمایاں کمی، عالمی سرمایہ کاری رجحانات میں تبدیلی کی وجہ قرار

چاندی اور سونے کی قیمتوں میں اچانک نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے، جسے ماہرین عالمی معاشی حالات، شرحِ سود میں اضافے اور سرمایہ کاری کے رجحانات میں تبدیلی کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا سمیت دنیا بھر میں انٹرسٹ ریٹس میں اضافے کے باعث سرمایہ کاروں نے سونے اور چاندی سے سرمایہ نکال کر فکسڈ انکم اور دیگر محفوظ سرمایہ کاری کے ذرائع میں منتقل کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ڈالر کے مستحکم ہونے سے بھی سرمایہ کاروں نے قیمتی دھاتیں فروخت کر کے ڈالر میں سرمایہ کاری کو ترجیح دی ہے۔ماہر تجزیہ کار محمد سہیل کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں کشیدہ صورتحال اور ممکنہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے پیش نظر سرمایہ کاروں نے سونے اور چاندی سے رقم نکال کر توانائی اور فرٹیلائزر جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری کی تاکہ ممکنہ منافع حاصل کیا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ کووڈ-19 کے بعد سرمایہ کاری کے انداز میں بڑی تبدیلی آئی ہے، جب مارکیٹ میں نئی نسل کے سرمایہ کار داخل ہوئے جن کے فیصلے بڑی حد تک سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت (AI) کے مشوروں پر مبنی ہوتے ہیں، جس نے قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں غیر متوازن اتار چڑھاؤ کو بھی جنم دیا ہے۔