امریکی ریاست ٹینیسی میں ایک حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے جہاں 51 سالہ شینن اینڈرسن کو اپنی تقریباً 9 سال سے لاپتا بیٹی جوڈی “بروک” اینڈرسن کے نام پر غیرقانونی طور پر سرکاری فوڈ اسٹامپ فوائد حاصل کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔پولیس کے مطابق بروک اینڈرسن 9 اگست 2017 کو اس وقت لاپتا ہوئی تھیں جب وہ اپنی والدہ کے ساتھ تھیں۔ شینن اینڈرسن کا مؤقف تھا کہ وہ چند لمحوں کے لیے واش روم گئیں اور واپس آ کر دیکھا تو بیٹی غائب تھی، تاہم اہلِ خانہ نے اس بیان پر شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گمشدگی کی رپورٹ کئی ہفتوں بعد درج کرائی گئی، جس سے قیمتی وقت ضائع ہوا۔بروک کی خالہ ڈی اینا اینڈرسن کے مطابق بروک اور ان کی والدہ اس وقت بے گھر تھیں اور منشیات کی لت کا شکار تھیں، جس کے باعث بروک پہلے ہی غیرمحفوظ حالات میں زندگی گزار رہی تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اب خاندان کو خدشہ ہے کہ شاید بروک زندہ نہیں رہیں۔تحقیقات کے دوران حکام نے الزام عائد کیا کہ شینن اینڈرسن لاپتا بیٹی کے نام پر مسلسل سرکاری فوڈ اسٹامپ فوائد حاصل کرتی رہیں۔ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوئے تو یہ سنگین مالی فراڈ تصور کیا جائے گا۔پولیس کے مطابق شینن اینڈرسن اس وقت 22 ہزار ڈالر کے مچلکوں کے تحت جیل میں ہیں۔ ان پر فوڈ اسٹامپ فراڈ کے علاوہ جنسی مجرموں کی رجسٹریشن سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔دوسری جانب بروک اینڈرسن کی گمشدگی آج بھی ایک معمہ بنی ہوئی ہے، جبکہ ان کے اہلِ خانہ تقریباً ایک دہائی گزرنے کے باوجود حقیقت سامنے آنے کے منتظر ہیں۔