قومی اسمبلی کی متعلقہ کمیٹی کے اجلاس میں الیکٹرک گاڑیوں پر مجوزہ ٹیکسوں اور حکومتی پالیسی کے حوالے سے اراکین نے مختلف سوالات اور تحفظات کا اظہار کیا۔اجلاس کے دوران رکن اسمبلی شاہدہ اختر نے ایف بی آر حکام سے استفسار کیا کہ الیکٹرک گاڑیوں کے ساتھ الیکٹرک چارجنگ اسٹیشنز کے قیام کے حوالے سے حکومت کی پالیسی کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ملک بھر میں چارجنگ اسٹیشنز کا مؤثر نیٹ ورک موجود نہیں ہوگا، الیکٹرک گاڑیوں کا استعمال کیسے ممکن ہوگا، جبکہ پاکستان میں بجلی کی صورتحال بھی سب کے سامنے ہے۔کمیٹی کی رکن شرمیلا فاروقی نے کہا کہ حکومت کو الیکٹرک گاڑیوں کے حوالے سے واضح اور مستقل پالیسی اپنانا ہوگی۔ اگر الیکٹرک گاڑیوں کو فروغ دینا مقصود ہے تو پھر ان پر اضافی بوجھ نہیں ڈالنا چاہیے، جبکہ لگژری الیکٹرک گاڑیوں کے لیے الگ درجہ بندی بھی زیر غور لائی جا رہی ہے۔اس موقع پر بلال اظہر کیانی نے کہا کہ لگژری الیکٹرک گاڑیوں پر بھی روایتی گاڑیوں کے مقابلے میں کم ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔کمیٹی کی رکن حنا ربانی کھر نے کہا کہ الیکٹرک گاڑیاں پہلے ہی اندرونی احتراقی انجن (ICE) والی گاڑیوں کے مقابلے میں زیادہ مہنگی ہوتی ہیں، اس لیے ان پر اضافی ٹیکس عائد کرنا مناسب پالیسی نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں الیکٹرک گاڑیوں پر 30 فیصد ڈیوٹی موجود نہیں تھی اور آٹوموبائل شعبے میں تیزی سے جدت آ رہی ہے، جہاں ہر چند ماہ بعد نئی ٹیکنالوجی متعارف ہو رہی ہے۔