ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران نے امریکی درخواست پر ایٹمی ہتھیار نہ رکھنے کے عہد پر دستخط کر دیے ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکا کی جانب سے صرف یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ ایران ایٹمی ہتھیار نہ رکھنے کے عزم کا تحریری اظہار کرے، جس پر ایران نے دستخط کر دیے۔اتوار کے روز مرکزی بینک میں منعقدہ 33 ویں مانیٹری اینڈ بینکنگ پالیسی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر پزشکیان نے کہا کہ امریکا کا بنیادی مؤقف یہی ہے کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ یہی مؤقف ایران کی قیادت پہلے بھی بارہا اختیار کر چکی ہے کہ ملک کو ایٹم بم کی ضرورت نہیں۔ایرانی صدر کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی بیشتر شقیں ایرانی قوم کے مفاد میں ہیں، جبکہ جاری مذاکرات کے مثبت نتائج جلد عوام کے سامنے آئیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ قطر میں منجمد ایرانی فنڈز، جن کی مالیت تقریباً 6 ارب ڈالر ہے، ایران کو واپس مل جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی وجہ سے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو ان مذاکرات سے سب سے زیادہ ناخوش ہیں۔