تہران اشنگٹن: جنگ بندی کے لیے امریکا کی نئی تجاویز پر ایران کی جانب سے رکھے گئے مطالبات اور شرائط کی تفصیلات منظرِ عام پر آ گئی ہیں۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے ثالثی کردار ادا کرنے والے پاکستان کے ذریعے امریکا کو اپنا جواب بھجوایا، جس میں پابندیاں ختم کرنے، جنگ کے مکمل خاتمے اور سلامتی کی ضمانت سمیت کئی اہم مطالبات شامل ہیں۔ایرانی نیم سرکاری خبر ایجنسی “تسنیم” کے مطابق تہران نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکا ایرانی تیل کی فروخت پر عائد پابندیاں 30 دن کے اندر ختم کرے اور ایران کا بحری محاصرہ بھی فوری طور پر ہٹایا جائے۔
ایرانی تجاویز میں جنگ کے فوری خاتمے اور اس بات کی واضح ضمانت بھی مانگی گئی ہے کہ مستقبل میں ایران پر دوبارہ حملہ نہیں کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ تہران نے آبنائے ہرمز کا انتظام اپنے پاس برقرار رکھنے اور جنگی نقصانات ک ازالے کے لیے معاوضہ دینے کا مطالبہ بھی دہرایا ہے۔امریکی اخبار “وال اسٹریٹ جرنل” کی رپورٹ کے مطابق ایران نے اپنی ایٹمی تنصیبات مکمل طور پر ختم کرنے کی امریکی تجویز مسترد کر دی ہے، تاہم تہران اعلیٰ سطح پر افزودہ یورینیم کی مقدار کم کرنے اور باقی ذخیرہ کسی تیسرے ملک منتقل کرنے پر آمادہ دکھائی دیتا ہے۔ایرانی سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ تہران نے امریکی امن تجاویز کے جواب میں اپنے ایٹمی پروگرام کے معاملے سے زیادہ توجہ خطے میں جاری جنگ کے خامے پر مرکوز رکھی ہے۔
واضح رہے کہ امریکی اخبار “نیویارک پوسٹ” کے مطابق حالیہ امریکی تجویز میں جنگ بندی، بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے آبنائے ہرمز کی بحالی اور ایران کے ایٹمی پروگرام میں کمی سے متعلق نکات شامل تھے۔دوسری جانب امریکی صدر Donald Trump نے ایران کی جانب سے پیش کی گئی شرائط کو مسترد کر دیا ہے۔