کراچی (ویب ڈیسک): شہر قائد کے علاقے سچل میں واقع ایک فارم ہاؤس پر مسلح افراد کے حملے اور ڈکیتی کے معاملے میں متاثرہ شہری عبدالرحمان نے سچل پولیس پر غلط ایف آئی آر درج کرنے کا الزام عائد کر دیا۔متاثرہ شہری کے مطابق 15 سے زائد اسلحہ بردار ملزمان فارم ہاؤس پر دھاوا بول کر لاکھوں روپے نقدی اور قیمتی سامان لوٹ کر لے گئے۔ عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ ملزمان فارم ہاؤس پر قبضے کی نیت سے آئے تھے اور ان کے ساتھ ایک پولیس موبائل بھی موجود تھی، تاہم درج کی گئی ایف آئی آر میں ان اہم نکات کو شامل نہیں کیا گیا۔ایف آئی آر کے متن کے مطابق ملزمان دروازہ توڑ کر زبردستی فارم ہاؤس میں داخل ہوئے اور وہاں موجود گارڈز، سپر وائزر اور ان کے اہل خانہ کو یرغمال بنا لیا۔ ملزمان نے اسٹاف کی آنکھوں پر پٹیاں باندھیں اور انہیں گاڑی میں بٹھا کر مختلف علاقوں میں گھماتے رہے، بعد ازاں دھمکیاں دے کر چھوڑ دیا اور فرار ہوتے ہوئے ہوائی فائرنگ بھی کی۔پولیس کے مطابق واقعے کی اطلاع ملنے پر تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، تاہم متاثرہ شہری کا دعویٰ ہے کہ کچھ ملزمان فارم ہاؤس پر قابض بھی ہو گئے تھے اور واردات کے دوران اپنی موبائل فون سے تصاویر بناتے رہے۔عبدالرحمان کے مطابق جب انہوں نے ون فائیو پر کال کی اور پولیس کے ہمراہ فارم ہاؤس پہنچے تو ملزمان فرار ہو گئے، تاہم بھگدڑ کے دوران ایک موبائل فون جائے وقوعہ پر رہ گیا، جس سے ملزمان کی تصاویر بھی سامنے آ گئی ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کیس کی مختلف پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے اور تمام شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔