کراچی میں دفعہ 144 کے باوجود رواداری مارچ اور ٹی ایل پی احتجاج، 600 افراد کے خلاف مقدمہ درج

کراچی پولیس نے اتوار کو احتجاج کے دوران دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے پر سول سوسائٹی کے تقریباً ایک درجن کارکنوں اور تحریک لبیک پاکستان کے 58 رہنماؤں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا جبکہ خواتین سے بدسلوکی اور تشدد پر دو ایس ایچ اوز سمیت 10 پولیس اہلکاروں معطل کردیا گیا۔ اتوار کے روز کراچی میں سندھ رواداری مارچ اور تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کی جانب سے بیک وقت احتجاج کے اعلان کے باعث ریڈ زون میدان جنگ کا منظر پیش کرنے لگا تھا اس دوران پولسی سے جھڑپوں میں ایک شخص جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔ پولیس نے ٹی ایل پی کے 58 رہنماؤں اور کارکنوں سمیت تقریباً 600 افراد کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تصادم اور پولیس کی گاڑیوں کو آگ لگانے کے الزام میں دہشت گردی اور دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ پیر کو آرٹلری میدان پولیس نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے پر سول سوسائٹی کے 12 کارکنوں سمیت 100 افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی۔ ٹی ایل پی مارچ کے 600 شرکا کے خلاف ایک اور ایف آئی آر درج کی گئی ہے جس میں الزام لگایا گیا کہ ٹی ایل پی کے مسلح کارکنوں نے میٹرو پول ہوٹل کے قریب پولیس اور رینجرز پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک شخص محمد ماجد ہلاک ہوگیا، جھڑپ میں پولیس کی ایک گاڑی کو نذر آتش کیا گیا، دوسری کو نقصان پہنچا اور متعدد پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے۔ دوسری جانب کراچی میں ’سندھ سواری مارچ‘ کے شرکا کے ساتھ بدتمیزی اور تشدد پر دو ایس ایچ او اور سات خواتین کانسٹیبلز سمیت کم از کم 10 پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا۔ پولیس ترجمان کے مطابق کراچی پریس کلب کے باہر خواتین اور صحافیوں کے ساتھ ناروا سلوک اور پولیس اہلکاروں کی جانب سے اختیارات کے ’غلط استعمال‘ پر پیر کو وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے آئی جی سندھ پولیس غلام نبی میمن سے بات کی۔ صوبائی وزیر نے پولیس چیف کو ہدایت کی کہ ڈی آئی جی غربی عرفان علی بلوچ کی سربراہی میں غیر جانبدارانہ اور شفاف انکوائری کی جائے جو تین دن کے اندر اپنے نتائج پیش کرے۔ ادھر سول سوسائٹی کے نمائندوں نے الگ الگ پریس کانفرنسوں میں پولیس کے وحشیانہ اقدامات پر انہیں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سندھ کی قیادت کی جانب سے جونیئر افسران کی معطلی اور خواتین، دانشوروں، شاعروں، گلوکاروں، صحافیوں اور دیگر غیر مسلح اور پرامن مظاہرین کے خلاف تشدد کی محض مذمت کافی نہیں۔