بلوچستان میں حالیہ طوفانی بارشوں نے تباہی مچادی جہاں مختلف واقعات میں 5 بچوں کی موت کے بعد جاں بحق شہریوں کی تعداد 39 تک پہنچ گئی ہے۔ صوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی جانب سے ریلیف اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے، انچارج پی ڈی ایم اے کنٹرول روم یونس مینگل نے بتایا کہ گزشتہ روز بلوچستان میں داخل ہونے والے بارشوں کے اسپیل کے بعد بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں موسلادھار بارشوں کا سلسلہ شروع ہوا اور ژوب میں طوفانی بارشوں کے باعث 2 کمسن بچے سیلابی ریلے میں بہہ گئے جن کی لاشیں ضلعی انتظامیہ اور پی ڈی ایم اے نے نکال کر ورثا کے حوالے کردیں ان کا کہنا تھا کہ جاں بحق ہونے والے دونوں بچے بھائی ہیں، اس کے علاوہ ضلع کیچ میں کیچ ندی سے گزرنے والے سیلابی ریلے میں گر کر ایک بچہ جاں بحق ہوگیا، گزشتہ روز خضدار کے علاقے توتک میں 3 بچے ڈیم میں گر گئے جنہیں لیویز نے فوری ریسکیو کرکے سول ہسپتال منتقل کردیا تاہم 2 بچے جان کی بازی ہار گئے۔ کیچ اور خضدار میں سیلابی پانی میں ڈوبنے سے 5 افراد کے جاں بحق ہونے کے بعد اموات کی تعداد 39 ہوگئی ہے جن میں 19 بچے شامل ہیں پی ڈی ایم اے کی جانب سے گزشتہ روز جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق یکم جولائی سے اب تک بارشوں سے مجموعی طور پر ایک لاکھ 11 ہزار 451 افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ 7 پل، 74 کلومیٹر سڑکیں،7 میڈیکل ہیلتھ یونٹس بھی بری طرح متاثر ہوئی ہیں، اس کے علاوہ 373 مال مویشی بھی جاں بحق ہوگئے، ساتھ ہی 58 ہزار 830 ایکڑ پر محیط فصلوں کو نقصان پہنچا ہے یونس مینگل نے بتایا کہ اب تک بلوچستان کے 11 اضلاع کو آفت زدہ قرار دیا گیا ہے جہاں امدادی سرگرمیاں جاری ہے جبکہ محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری الرٹ کے بعد محکمہ پی ڈی ایم اے اور دیگر اداروں کے اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ کردی گئی ہیں اور ان کی تعیناتی کو یقینی بنانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔