شہید اللہ بخش سومرو (سيبس) یونیورسٹی آف آرٹ ڈیزائن اینڈ ہیریٹیجز جامشورو میں پہلے بین الاقوامی سمپوزیم کا بعنوان “ایکو آرٹ: گرین لطیف – نیچر اینڈ کلچر” کا انعقاد کیا گيا۔ یہ تقریب سینٹر فار نالج ڈیولپمنٹ پرائيوٹ لمیٹڈ کے ساتھ ایک مشترکہ کوشش تھی۔ سمپوزیم کا افتتاح ایک قابل ذکر تقریب کے ساتھ کیا گیا جس میں مختلف شعبوں کی ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔ وزیر یونیورسٹیز اینڈ بورڈز سندھ محمد علی ملکانی نے اس موقع پر مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی اور شاہ لطیف کی شاعری میں ماحولیاتی شعور کو فنکارانہ اظہار میں شامل کرنے کی اہمیت پر زور دیا دو روزہ ایونٹ میں مختلف قسم کی سرگرمیاں پیش کی گئیں، بشمول شاعری، آرٹ، ریاضی پر مبنی ریسرچ سینٹر کا افتتاح، ایکو آرٹ ٹرانسفارمیشن نمائش، سيبس یونیورسٹی اور سینٹر فار نالج ڈیولپمنٹ کے درمیان مفاہمت نامے پر دستخط، اور ایکو آرٹ لطیف گارڈن کی نقاب کشائی شامل تهی۔ سمپوزیم کا ایک اہم حصہ اٹلی، آسٹریلیا، ہندوستان اور پاکستان کے اسکالرز کے 15 تحقیقی مقالے پیش کرنا تھا۔ مباحثوں نے ماحولیاتی آرٹ کے بارے میں عالمی تناظر اور ثقافتی اور ماحولیاتی فرق کو ختم کرنے میں اس کے کردار کے بارے میں قیمتی بصیرت فراہم کی۔ سمپوزیم میں پینل ڈسکشنز اور ورکشاپس بھی شامل تھیں، جو شرکاء کو ایونٹ کے موضوعات میں گہرائی میں جانے کا موقع فراہم کرتی تھیں۔ وزیر یونیورسٹیز اینڈ بورڈز سندھ محمد علی ملکانی، سيبس یونیورسٹی کی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ارابیلا بھٹو، سینٹر فار نالج ڈیولپمنٹ کے سی ای او، پریم متھرانی، اطالوی محقق کولین کوراریڈی برنیگن، چیف آرگنائزر فضل الٰہی خان اور اسسٹنٹ پروفیسر شازیہ ابڑو نے خطاب کيا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر یونیورسٹیز اینڈ بورڈز محمد علی ملکانی نے کہا کہ شاہ عبداللطیف عالمگیر شاعر ہیں جنہوں نے انسانیت اور مادر وطن سے محبت کا پیغام دیا۔ انہوں نے کہا کہ سيبس یونیورسٹی جامشورو نے تصوف، فن، سائنس اور ٹیکنالوجی کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کے لیے ایک عظیم اقدام اٹھایا ہے جو نوجوان نسل کو وسیع پیمانے پر شاه لطيف کی شاعری کی طرف راغب کرے گا۔ محمد علی ملکانی نے کہا کہ سندھ نے ہمیشہ محبت اور امن کا پیغام دیا ہے اور اس قسم کے سمپوزیم سے دنیا بھر میں ہمارے صوبے اور ملک کا مثبت تاثر اجاگر ہوگا۔ صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ یہ فخر کا لمحہ ہے کہ ہماری نوجوان نسل نے جدید ٹیکنالوجی کی بنیاد پر اور منفرد انداز میں لطیف کی شاعری کو فنی انداز میں دریافت کرنے میں گہری دلچسپی لی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے معاشرے کو منفی، دہشت گردی، انتہا پسندی اور بے صبری جیسے مختلف چیلنجز کا سامنا ہے لیکن لطیف کی شاعری ہم آہنگی، صبر، محبت اور بھائی چارے کے پیغام کی عکاسی کرتی ہے پروفیسر ڈاکٹر ارابیلا بھٹو نے کہا کہ ہمیں اس تاریخی تقریب کی میزبانی کرنے پر فخر ہے، جس کے بارے میں ہمیں یقین ہے کہ یہ ایکو آرٹ پر گفتگو اور امن، خوشحالی اور مثبتیت کو فروغ دینے کے لیے شاہ لطیف کے پیغام میں اہم کردار ادا کرے گا۔ یہ سمپوزیم ہمارے ادارے اور ہمارے شراکت داروں کے باہمی تعاون کے جذبے کا ثبوت ہے، اور ہم اس اہم میدان میں مسلسل کوششوں کے منتظر ہیں۔ ڈاکٹر ارابیلا بھٹو نے کہا کہ سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، آرٹ اور ریاضی کو فروغ دینا ہمارا مشن ہے اور ہم ہر شعبے کو دوسرے شعبے تعاون کے بغیر تاریک سمجھتے ہیں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سینٹر فار نالج ڈیولپمنٹ کے سی ای او پریم متھرانی نے کہا کہ مغربی دنیا میں علم کی ترقی کے حوالے سے مختلف تصورات ہیں لیکن جب ہم اپنی تاریخ میں جھانکتے ہیں تو ہم خود کو تاریخ میں دوسروں سے زیادہ ترقی یافتہ، تعليم یافتہ اور پرامن پاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علم کو دریافت کرنے کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی وسیع گنجائش موجود ہے اور ہمیں آرٹ اور ڈیزائن کے ذریعے شاہ لطیف کی شاعری میں گہرے پیغام کو فروغ دینے کے لیے سيبس یونیورسٹی جامشورو کی شکل میں ایک پارٹنر ملا۔ پریم متھرانی نے کہا کہ بھٹائی آرٹ ہے اور آرٹ بھٹائی ہے اور اسی خیال کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے شاہ لطیف کی شاعری میں اس گہرائی کا جائزہ لیا جو شیکسپیئر کی شاعری یا دنیا کے کسی شاعر میں نہیں ملتی اس موقع پر سيبس یونیورسٹی کی سنڈیکیٹ ممبر پروفیسر ڈاکٹر نیلوفر شیخ، وائس چانسلر مہران یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی جامشورو پروفیسر ڈاکٹر طحہٰ حسین علی، وائس چانسلر سندھ ایگریکلچر یونیورسٹی ٹنڈوجام پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد مری، وائس چانسلر شہید بینظیر بھٹو،یونیورسٹی نوابشاہ پروفیسر ڈاکٹر امانت علی جلبانی، وائس چانسلر لیاقت میڈیکل یونیورسٹی جامشورو پروفیسر ڈاکٹر اکرام الدین اُجن اور دیگر نے شرکت کی۔ یونیورسٹی آف صوفی ازم اینڈ ماڈرن سائنسز بھٹ شاہ، مہران یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، جامشورو نے بھی سمپوزیم کے لیے تعاون کیا۔