تفصیلات کے مطابق بجلی چوری روکنے اور بجلی کمپنیوں میں بہتری لانے کا پلان آئی ایم ایف کو پیش کردیا گیا دستاویز میں بتایا گیا بجلی چوری روکنےکیلئےتمام ڈسکوز کیلئےپولیس فورس کا قیام عمل میں لایاجائے گا اور قانون سازی کےذریعےبجلی چوری روکنےکیلئےپولیس فورس مختص کی جائے گی دستاویز میں کہنا تھا کہ بجلی تقسیم کارکمپنیوں کی مانیٹرنگ کیلئے آزادانہ سسٹم متعارف کیا جائے گا اور باہر سے افسران لاکر سب سے زیادہ نقصان والے 2500 فیڈرز کی مانیٹرنگ کی جائے گی دستاویز میں کہا ہے کہ بجلی چوری کو قابل دست اندازی جرم قرار دی جائےگاآئی ایم ایف کو انسداد بجلی چوری کیلئے قانون سازی کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بجلی چوری روکنےکے اقدامات کوادارہ جاتی بنایاجائے گا آئی ایم ایف کو بجلی تقسیم کار کمپنیوں سے جان چھڑانے کی بھی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بجلی تقسیم کارکمپنیوں میں نجی شعبے کی شمولیت اورنجکاری ہوگی، رواں سال اپریل کےآخر تک ٹرانزیکشن ایڈوائزرکا بندوبست کیاجائے گا اور توانائی شعبے میں اصلاحات سے ڈسٹری بیوشن لاگت میں کمی آئے گی آئی ایم ایف کو بجلی کمپنیوں کی کارکردگی،اہلیت اورگورننس بہترکرنے کی بھی یقین دہانی کرادی گئی ہے۔