محکمہ اوقاف، عشر وزکوٰة مذہبی امور سندھ نے صوبے بھر میں افسران کے تقرر و تبادلوں پر پابندی کے ساتھ سرکاری ملازمین اور زکوٰة چیئرمینز کو سیاسی سرگرمیوں یا انتخابی مہم میں حصہ نہ لینے کا حکم دیا ہے یہ پابندی الیکشن کمیشن اور نگراں وزیر قانون عمر سومرو کی ہدایت پر لگائی گئی اس حوالے سے ایک نوٹیفیکیشن بھی جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کوئی زکوٰة چیئرمین سیاسی سرگرمی یا انتخابی مہم میں ملوث پایا گیا تو اس کیخلاف ایکٹ 2011 دفعہ 20 اور 28 کے تحت تادیبی کارروائی ہو گی اور مجاز اتھارٹی کے ذریعےانتخابی قوانین کے تحت جرمانہ بھی کیا جائے گا واضح رہے کہ گزشتہ روز ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ خالد مقبول صدیقی نے اس حوالے سے چیف الیکشن کمشنر سے شکایت کی تھی سربراہ ایم کیو ایم پاکستان نے چیف الیکشن کمشنر کے نام اپنے خط میں لکھا تھا کہ سندھ میں زکوۃ ڈپارٹمنٹ میں سیاسی تعیناتیاں منسوخ کی جائیں، پیپلز پارٹی کےعہدیداران زکوۃ کمیٹیوں کے چیئرمین تعینات ہیں خالد مقبول صدیقی نے خط میں مزید لکھا تھا کہ عہدیداران اپنے من پسند افراد میں زکوۃ فنڈز تقسیم کرتے ہیں، فنڈز چیئرمینز کے حوالے کرنا دھاندلی کے زمرے میں آتا ہے۔ الیکشن کمیشن کی ذمے داری ہے کہ شفاف انتخابات کا انعقاد یقینی بنائے۔