سوشل میڈیا پر وائرل ’جیلا فوڈ پوائنٹ‘ پر ٹیم سرعام کی کارروائی

اس ریسٹورنٹ کے بارے میں گزشتہ دنوں یہ بات سامنے آئی تھی کہ جیلا فوڈ پوائنٹ پر ناقص اور جعلی دیسی گھی سے تیار کردہ کھانے لوگوں کو کھلائے جارہے تھے جس پر یہ ریسٹورنٹ سربمہر کردیا گیا اس حوالے سے جیلا فوڈ پوائنٹ کے مالک محمد رمضان ولد جیلا سے ٹیم سرعام نے ملاقات کی اور ان کیخلاف ہونے والی فوڈ اتھارٹی کی کارروائی اور کھانوں کے معیار سے متعلق تفصیلی گفتگو کی میں نے اور میرے ملازمین نے باقاعدہ کھانا پکانے کی کلاسز (شیف کورس) لی ہیں، ایک بار اتھارٹی کی جانب سے جرمانے اور ریسٹورنٹ سیل کرنے کے بعد نئے سرے سے تمام تر قواعد و ضوابط کے ساتھ کام شروع کیا ہے کھانوں کے مناسب ریٹ کے حوالے سے جیلا نے بتایا کہ پہلے جہاں میرا ریسٹورنٹ تھا وہاں ادھار کام بہت ہوتا تھا لیکن جب میں اس علاقے میں آیا ہوں تو یہاں سارا مال نقد میں بکتا ہے اور سیل بھی زیادہ ہے جس کی وجہ سے اپنا منافع بھی کم رکھا ہے۔ پہلے میرے پاس دو لڑکے کام کرتے تھے اب 25 ملازم ہیں سوشل میڈیا پر مشہور ہونے سے متعلق بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جب میری پہلی ویڈیو بن رہی تھی تو مجھے ڈر لگ رہا تھا کہ کہیں کسی بات پر پکڑا نہ جاؤں، حالانکہ مجھے کچھ لوگ برا بھلا بھی کہتے ہیں لیکن میں اپنا کام ایمانداری سے کرتا رہوں گا۔