حکومت نے 28ویں آئینی ترمیم کی منظوری کیلئے سرگرمیاں تیز کر دی ہیں، جبکہ مئی کا اگلا ہفتہ اس حوالے سے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق آئینی ترمیم پر مشاورت کا آغاز ہو چکا ہے اور صدر مملکت و وزیراعظم کی حالیہ ملاقات میں یہ معاملہ سرفہرست رہا۔ اس اہم اجلاس میں اسپیکر قومی اسمبلی Ayaz Sadiq سمیت دیگر اہم شخصیات بھی شریک تھیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے مختلف پارلیمانی رہنماؤں سے غیر معمولی مشاورت کی ہے اور انہیں Pakistan Muslim League (N) اور Pakistan Peoples Party کے درمیان اتفاقِ رائے پیدا کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔اطلاعات کے مطابق پیپلز پارٹی کو 28ویں ترمیم پر بعض تحفظات ہیں، جنہیں دور کرنے کیلئے وزیراعظم Shehbaz Sharif، رانا ثنا اللہ اور نائب وزیراعظم Ishaq Dar متحرک ہیں۔ سندھ کے ترقیاتی منصوبوں کو بجٹ میں شامل کرنے کی اصولی منظوری بھی زیر غور ہے۔ذرائع نے بتایا کہ ایوانِ صدر میں چیئرمین پیپلز پارٹی Biawal Bhutto Zardari اور دیگر رہنماؤں کے ساتھ اہم مشاورت ہوئی، جس میں این ایف سی ایوارڈ، وفاقی و صوبائی شیئرز، حکومتی اخراجات اور آمدن سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ذرائع کے مطابق حکومت 21 مئی سے قبل، عیدالاضحیٰ سے پہلے، اتفاقِ رائے کے ساتھ 28ویں آئینی ترمیم پیش کرنے کی خواہاں ہے۔ مجوزہ ترمیم میں این ایف سی ایوارڈ سمیت اہم امور پر قانون سازی شامل ہوگی، تاہم نئے صوبوں کا معاملہ اس ترمیم کا حصہ نہیں ہوگا۔