حیدرآباد (ویب ڈیسک): آرٹس کونسل تنازع، دو فنکار سائبر کرائم ٹیم کے ہاتھوں گرفتار، پوچھ گچھ کے بعد رہا
حیدرآباد میں آرٹس کونسل تنازع کے دوران سائبر کرائم ٹیم نے کارروائی کرتے ہوئے دو فنکاروں کو حراست میں لے لیا، جنہیں تقریباً 10 گھنٹے پوچھ گچھ کے بعد رہا کر دیا گیا، تاہم ان کے موبائل فون تاحال حکام کے پاس ہیں۔
تفصیلات کے مطابق پروفیسر ڈاکٹر اسحاق سمیجو کی درخواست پر National Cyber Crime Investigation Agency (NCCIA) نے آرٹسٹ انو سولنگی اور قزبانو آصف کو تحویل میں لیا اور طویل پوچھ گچھ کی۔
آرٹسٹ انو سولنگی کا الزام ہے کہ آرٹس کونسل پر قبضے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے اور خواتین کو بھی حراست میں لے کر ہراساں کیا جا رہا ہے، جو ایک تشویشناک عمل ہے۔
دوسری جانب ڈاکٹر اسحاق سمیجو نے اپنے مؤقف میں کہا کہ سوشل میڈیا پر ان کے خلاف بے بنیاد الزامات لگائے گئے اور غیر اخلاقی زبان استعمال کی گئی، جس پر انہوں نے قانونی کارروائی کرتے ہوئے NCCIA سے رجوع کیا۔
یاد رہے کہ اس تنازع کے پس منظر میں گزشتہ دنوں حیدرآباد کے فنکاروں، گلوکاروں اور ادیبوں نے آرٹس کونسل میں مبینہ طور پر شمولیت نہ ملنے کے خلاف پریس کلب کے باہر احتجاج کیا تھا، جبکہ فنکاروں نے 20 اپریل کو سندھ یونیورسٹی میں مزید احتجاج کا اعلان بھی کیا ہے۔
دوسری طرف آرٹس کونسل انتظامیہ نے جنرل باڈی اجلاس میں نئی ممبرشپ مہم شروع کرنے کے ساتھ مئی کے آخر میں انتخابات کرانے کا اعلان بھی کر دیا ہے، جس سے تنازع مزید شدت اختیار کرنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔