کراچی میں 75 سے زائد علاقوں میں دہشتگردوں کی موجودگی، سیکیورٹی ہائی الرٹ

کراچی میں دہشتگردی کے ممکنہ خطرات کے پیش نظر سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔ آئی جی سندھ اور ایڈیشنل آئی جی کراچی کی جانب سے پولیس کو ہمہ وقت الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔اسپیشل برانچ پولیس کی خفیہ رپورٹ کے مطابق شہر کی 75 سے زائد آبادیوں میں کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے دہشتگردوں کی مبینہ موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شہر کی 8 اہم شاہراہوں کے ذریعے دہشتگردوں کی نقل و حرکت ریکارڈ کی گئی جبکہ اسمگلنگ کے لیے استعمال ہونے والے راستے بھی دہشتگردی کے مقاصد کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔خفیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دہشتگردوں کا ہدف سی پیک منصوبے، سرکاری عمارتیں، دفاتر اور دیگر حساس مقامات ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کالعدم تنظیموں بی ایل اے، بی ایل ایف سمیت دیگر گروہوں کے درمیان اتحاد کی طلاعات بھی موصول ہوئی ہیں، جبکہ مجید بریگیڈ اور سندھودیش لبریشن آرمی سے متعلق بھی اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ دہشتگرد تنظیموں کے تین بڑے سربراہان کے نام بھی سامنے آئے ہیں، جبکہ کالعدم ایس آر اے کے سربراہ اصغر علی شاہ اور ڈاکٹر شفیع برفت گروپ کی جانب سے دہشتگردوں کی حمایت جاری رکھنے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق بیرونی خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے دہشتگردوں کو فنڈنگ کے شواہد بھی ملے ہیں۔ افغانستان سے جاری اسمگلنگ روٹس پر کڑی نظر رکھنے کی سفارش کی گئی ہے جبکہ بعض طلبہ تنظیموں اور تعلیمی اداروں کے دہشتگردی میں استعمال کا بھی انکشاف ہوا ہے۔دوسری جانب آئی جی سندھ کی زیر صدارت اجلاس میں امن و امان کی صورتحال اور سرحد پار سے موصول خفیہ اطلاعات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ شہر کے داخلی و خارجی راستوں کی سیکیورٹی مزید سخت کی جائے گی اور ہر ضلع میں کوئیک رسپانس فورس کو الرٹ رکھا جائے گا۔آئی جی سندھ نے سی ٹی ڈی اور اسپیشل برانچ کو ہدایت کی کہ ضلعی پولیس کو بروقت انٹیلی جنس فراہم کی جائے جبکہ افسران کو حساس مقامات کا خود جائزہ لینے اور فیلڈ میں موجود رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔مزید برآں روزانہ دو مرتبہ جنرل ہولڈ اپ، اسنیپ چیکنگ اور گداگروں کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے کی بھی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔