اسلام آباد:خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع کے مسائل کے حل کے لیے ایک نیا انتظامی نظام متعارف کرایا جا رہا ہے۔ مشیر اطلاعات محمود جان بابر نے ہفتے کے روز اس بات کی تصدیق کی ہے کہ عسکریت پسندی کے خاتمے کے لیے انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن کیے جائیں گے، اور کسی بھی قبائلی شہری کو نقل مکانی پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔
محمود جان بابر نے ایک خصوصی گفتگو کے دوران بتایا کہ مجوزہ علاقائی ترقیاتی سیکریٹریٹ کی تشکیل مکمل ہو چکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف پیر کے روز پشاور کے دورے کے دوران کونسل کے ممبران سے ملاقات کریں گے اور اہم اعلانات متوقع ہیں۔
یہ نیا نظام مستقل بنیادوں پر قائم کیا جا رہا ہے، جس کی براہِ راست نگرانی وزیراعظم خود کریں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک عوام کے بنیادی مسائل حل نہیں ہو جاتے، یہ نظام کام کرتا رہے گا اور اس کی کوئی مخصوص مدت مقرر نہیں کی گئی۔
یہ اقدام خیبر پختونخوا کے عوام کے لیے ایک بڑی امید ہے، جس کا مقصد نہ صرف عسکریت پسندی کا خاتمہ ہے بلکہ شہریوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانا بھی ہے۔ اس نئے نظام کے تحت عوامی مسائل کے ازالے کی کوششیں تیز کی جائیں گی تاکہ علاقے میں دیرپا امن و امان قائم ہو سکے۔