کراچی: سندھ کے اساتذہ کا سیکریٹریٹ کے باہر دھرنا، 12 فروری کو بلاول ہاؤس احتجاج کا اعلان

کراچی میں سندھ کے اساتذہ نے اپنے مطالبات کے حق میں سندھ سیکریٹریٹ کے باہر احتجاجی دھرنا دے دیا جبکہ 12 فروری کو بلاول ہاؤس پر حتجاج
تفصیلات کے مطابق پروفیسر لیکچرار ایسوسی ایشن سندھ (سپلا) کی جانب سے صوبائی حکومت کے خلاف احتجاج کیا گیا۔ اساتذہ کا مؤقف ہے کہ کومت کی جانب سے پانچ درجاتی (فائیو ٹائر) فارمولہ تاحال منظور نہیں کیا گیا اور کالج اساتذہ کی ترقیوں کو مسلسل التوا میں رکھا جا رہا ہے۔احتجاج کے موقع پر سپلا کے مرکزی صدر منور احمد عباس نے کہا کہ کالج ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ صوبائی حکومت کی عدم توجہی کا شکار ہے، جس کے باعث سندھ کے کالجز کی حالت ابتر ہوتی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اساتذہ کی ترقیوں میں تاخیر اور تعلیمی سہولیات کی کمی کے خلاف دھرنا دیا جا رہا ہے۔منور عباس نے اعلان کیا کہ اگر اساتذہ کے مسائل فوری طور پر حل نہ کیے گئے تو 12 فروری کو بلاول ہاؤس کے باہر احتجاجی دھرنا دیا جائے گا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ وزیر تعلیم سردار شاہ سندھ اسمبلی میں کالج اساتذہ کو فائیو ٹائر دینے کا اعلان کر چکے ہیں، تاہم اس پر تاحال عملدرآمد نہیں ہو سکا۔سپلا کے صدر کا کہنا تھا کہ سندھ کے کالجز کھنڈر بن چکے ہیں، ہزاروں اسامیاں خالی پڑی ہیں اور لیکچررز کی ڈی پی سی، بورڈ ون اور بورڈ ٹو کے اجلاس منعقد نہ ہونے سے اساتذہ شدید مایوسی کا شکار ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ کالجز میں سویپر، چوکیدار اور چپڑاسی کی ہزاروں اسامیاں خالی ہونے کے باعث سیکیورٹی کے مسائل پیدا ہو چکے ہیں اور چوری کی وارداتیں معمول بن گئی ہیں جبکہ کئی کالجز کچرا کنڈی کا منظر پیش کر رہے ہیں۔سپلا کے مطابق سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ اپنے قیام سے اب تک انٹرمیڈیٹ کی کمپیوٹر سائنس اور کامرس کی کتابیں شائع کرنے میں ناکام رہا ہے، جبکہ صوبے کے آدھے سے زائد کالجز میں مستقل پرنسپلز تعینات نہیں ہیں۔اساتذہ نے مطالبہ کیا کہ 2008 سے منجمد ہاؤس رینٹ، کنوینس اور میڈیکل الاؤنسز میں مہنگائی کی شرح کے مطابق فوری اضافہ کیا جائے، بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ پورے سندھ تک پھیلا دیا جائے گا۔