لاہور: بھاٹی گیٹ مین ہول حادثہ، ملزمان 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

لاہور کی مقامی عدالت نے بھاٹی گیٹ کے علاقے میں مین ہول میں گر کر ماں اور بیٹی کے جاں بحق ہونے کے افسوس ناک واقعے کے مقدمے میں نامزد ملزمان کو چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔لاہور کی ضلع کچہری میں جوڈیشل مجسٹریٹ شفقت عباس نے مقدمے کی سماعت کی، جہاں پولیس نے ملزمان کو عدالت میں پیش کیا۔ پولیس نے مؤقف اختیار کیا کہ واقعے کی مکمل تفتیش، غفلت کے ذمہ داروں کا تعین اور ٹھوس شواہد اکٹھے کرنے کے لیے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ ضروری ہے۔مقدمے میں پروجیکٹ منیجر اصغر سندھو، سیفٹی انچارج حنظلہ، سائٹ انچارج احمد نواز سمیت 5 ملزمان نامزد ہیں، جبکہ نجی کمپنی سے تعلق رکھنے والے دو بھائی سلمان اور عثمان بھی ملزمان میں شامل ہیں۔دورانِ سماعت ملزمان کے وکیل نے جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ یہ واقعہ ایک حادثہ تھا۔ وکیل کے مطابق انسانی ہمدردی کی بنیاد پر متاثرہ خاندان کو ایک کروڑ روپے بطور ہرجانہ ادا کیے جا چکے ہیں، جس کا چیک عدالت میں پیش کیا گیاعدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد پولیس کی درخواست جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے ملزمان کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔واضح رہے کہ یہ واقعہ لاہور کے علاقے داتا دربار کے قریب پیش آیا تھا، جہاں ایک کھلے مین ہول میں گرنے سے ماں اور بیٹی جاں بحق ہو گئی تھیں۔ پولیس نے متوفیہ کے والد ساجد کی مدعیت میں تھانہ بھاٹی گیٹ میں مقدمہ درج کر رکھا ہے، جبکہ مدعی نے متعلقہ افسران اور کنٹریکٹرز پر غفلت اور لاپرواہی کے الزامات عائد کیے ہیں۔واقعے کے بعد حکومتی سطح پر کارروائی کرتے ہوئے 47 افسران کو برطرف کر دیا گیا، جبکہ شہر میں گٹر کورز کی تنصیب اور ترقیاتی منصوبوں کے گرد حفاظتی آہنی باڑ لگانے کے اقدامات بھی کیے گئے ہیں تاکہ آئندہ ایسے حادثات سے بچا جا سکے۔