سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ آتشزدگی سے تحفظ کے لیے نہ صرف تجارتی عمارتوں بلکہ گھروں اور فلیٹس میں بھی فائر سیفٹی سسٹم ہونا چاہیے۔ کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گُل پلازہ کے المناک سانحے کے تناظر میں حکومت اس حوالے سے قانون سازی کرے گی۔شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ کراچی میں جتنی نئی عمارتیں تعمیر ہو رہی ہیں ان میں حفاظتی نظام موجود ہے، جبکہ تمام گیس اسٹیشنز میں بھی فائر سیفٹی سسٹم نصب ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر نیا گھر یا دکان تعمیر کی جائے تو اس میں بھی حفاظتی نظام کی موجودگی لازمی ہونی چاہیے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ گُل پلازہ میں آگ لگنے کا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے، اس سانحے میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں، تاہم ہر واقعے کا الزام وزیراعلیٰ سندھ پر ڈالنا درست نہیں۔شرجیل میمن نے بتایا کہ گُل پلازہ سانحے کی انکوائری جاری ہے اور فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انکوائری مکمل ہونے کے بعد ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں بھی مارکیٹوں میں آتشزدگی کے واقعات کے بعد تاجروں کو اکیلا نہیں چھوڑا گیا اور اس بار بھی نقصانات کے ازالے کے لیے ایک مؤثر میکنزم بنایا گیا ہے۔صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو سال کے دوران کراچی میں جتنے بھی آگ کے واقعات ہوئے، ان پر کے ایم سی نے قابو پایا۔ اگر وفاقی حکومت کے پاس کوئی جدید ٹیکنالوجی موجود تھی تو وہ پیش کر سکتی تھی، تاہم کسی ادارے کو روک نہیں گیا، ہر ادارے کو مزید بہتری کی ضرورت ہے۔