انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے اپنی تازہ معاشی جائزہ رپورٹ میں پاکستان میں مہنگائی میں اضافے کی پیشگوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ 4.5 فیصد مہنگائی کی شرح بڑھ کر 6.3 فیصد تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ جون 2026 تک یہ شرح 8.9 فیصد تک جانے کا امکان ہے رپورٹ کے مطابق جاری مالی سال کے دوران پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ 3.2 فیصد رہنے کی توقع ہے۔ بے روزگاری کی شرح میں معمولی کمی ممکن ہے جو 8 فیصد سے کم ہو کر 7.5 فیصد ہو سکتی ہے آئی ایم ایف نے بتایا کہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب 2025 میں 15.9 فیصد سے بڑھ کر 2026 میں 16.3 فیصد تک پہنچ جائے گا، جبکہ مالیاتی خسارہ گزشتہ سال کے 5.4 فیصد کے مقابلے میں کم ہو کر 4 فیصد رہنے کا امکان ہے تاہم قرض کا بوجھ جی ڈی پی کے 69.6 فیصد کی بلند سطح پر برقرار رہے گا، جو معیشت کے لیے تشویشناک امر ہے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو ایک طرف مہنگائی پر قابو پانا ہے اور دوسری جانب معاشی ترقی اور مالیاتی استحکام کو برقرار رکھنے کا چیلنج بھی درپیش ہے واضح رہے کہ آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ نے چند روز قبل پاکستان کے لیے 37 ماہ پر مشتمل ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (EFF) اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی (RSF) کے تحت 1.2 ارب ڈالر کی منظوری دی ہے یہ رقم فوری طور پر پاکستان کے اکاؤنٹ میں منتقل کی جائے گی آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان نے معاشی اور توانائی شعبے میں بروقت اصلاحات نافذ کی ہیں، جو معاشی استحکام کے لیے ضروری ہیں۔