پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ بدقسمتی سے خیبرپختونخوا میں ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کو جگہ دی گئی، جبکہ گورننس اور عوامی فلاح و بہبود کے نظام کو جان بوجھ کر کمزور کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں آج بھی خیبرپختونخوا کے بہادر عوام اپنے خون سے اس نقصان کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کور ہیڈکوارٹر پشاور میں اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس بریفنگ کا مقصد صوبے کی موجودہ سیکورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ پیش کرنا ہے۔انہوں نے آغاز میں خیبرپختونخوا کے عوام کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور کہا کہ “ہم سب مل کر دہشتگردی کے ناسور کو جڑ سے ختم کریں گے۔”ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق، سال 2024 سے اب تک 14 ہزار 535 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، یعنی روزانہ اوسطاً 40 کارروائیاں۔ ان آپریشنز کے دوران 769 دہشتگرد مارے گئے، جب کہ 577 افراد نے جامِ شہادت نوش کیا، جن میں 272 فوجی، 140 پولیس اہلکار اور 165 معصوم شہری شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ سال 2025 میں 15 ستمبر تک 10 ہزار 115 انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کیے جا چکے ہیں، جن میں 917 دہشتگرد ہلاک ہوئے، یعنی اوسطاً روزانہ 3.5 دہشتگرد مارے گئے۔ان آپریشنز میں 516 افراد نے جان کا نذرانہ پیش کیا، جن میں 311 فوجی جوان، 73 پولیس اہلکار اور 132 شہری شامل ہیں۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کے مطابق، گزشتہ 10 سالوں کے مقابلے میں 2024 اور 2025 میں مارے جانے والے دہشتگردوں کی تعداد سب سے زیادہ رہی۔ گزشتہ سال میں ہلاک دہشتگردوں کی تعداد گزشتہ نو سالوں کے مجموعی ہلاک شدگان سے بھی زیادہ تھی۔
انہوں نے کہا کہ 2016 کے آرمی پبلک اسکول سانحے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلیجنس ایجنسیوں نے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے بھرپور کارروائیاں کیں، جس کے نتیجے میں آج ایک پرامن خیبرپختونخوا کے خواب کے قریب پہنچ چکے ہیںتاہم انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کچھ عناصر نے منصوبہ بندی کے تحت دہشتگردوں کو سہولت فراہم کی، جس کی وجہ سے صوبے کی گورننس، فلاحی نظام اور عوامی ترقی کے ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا۔ ان پالیسیوں کا خمیازہ آج بھی خیبرپختونخوا کے بہادر عوام اپنی قربانیوں کے ذریعے بھگت رہے ہیں۔