اسلام آباد:
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت کی جانب سے علی امین گنڈاپور کی جگہ 36 سالہ محمد سہیل آفریدی کو خیبر پختونخوا کی وزارتِ اعلیٰ کے لیے نامزد کیے جانے سے لے کر صوبے میں گورنر راج کے نفاذ تک، صوبائی سیاست میں اہم تبدیلیاں رونما ہوئیں۔
پارٹی کی جانب سے سہیل آفریدی کے انتخاب کے وقت یہ توقع ظاہر کی گئی تھی کہ وہ صوبائی انتظامی امور کی بہتری کے ساتھ ساتھ بانی چیئرمین عمران خان کے حوالے سے پارٹی کی مجموعی سیاسی اور قانونی حکمت عملی میں متحرک کردار ادا کریں گے۔
سہیل آفریدی کے دورِ حکومت کے دوران صوبائی حکومت کو جہاں متعدد انتظامی اور معاشی چیلنجز کا سامنا رہا، وہیں وفاق اور صوبے کے مابین تعلقات میں بھی تناؤ دیکھا گیا۔ صوبائی حکومت کا مؤقف رہا کہ وفاق کی جانب سے عدم تعاون اور فنڈز کی عدم فراہمی کے باعث مسائل پیدا ہوئے، جبکہ وفاقی حلقوں اور سیاسی حریفوں نے صوبائی انتظامیہ کے طرزِ حکمرانی اور ترجیحات پر سوالات اٹھائے۔
صوبائی اور وفاقی سطح پر جاری سیاسی کشمکش کے بعد وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے کا فیصلہ کیا، جس کے نتیجے میں صوبائی انتظامی اختیارات گورنر کے سپرد کر دیے گئے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، موجودہ آئینی و انتظامی صورتحال کے بعد خیبر پختونخوا کے سیاسی مستقبل، پی ٹی آئی کی آئندہ حکمت عملی اور صوبے میں جمہوری عمل کے تسلسل کے حوالے سے مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔