سرائیل میں یرغمالیوں کی رہائی کے لیے سرگرم ایک تنظیم نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو غزہ جنگ کے خاتمے میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے۔خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق تنظیم نے اپنے حالیہ بیان میں کہا کہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں اسرائیلی فضائی حملے نے یہ واضح کر دیا کہ یرغمالیوں کی واپسی اور جنگ کے خاتمے میں نیتن یاہو سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔تنظیم نے بیان میں مزید کہا کہ ہر بار جب کوئی معاہدہ قریب آتا ہے، نیتن یاہو اسے سبوتاژ کر دیتے ہیں۔گزشتہ روز نیتن یاہو نے کہا تھا کہ قطر میں مقیم حماس کے رہنماؤں کو ختم کرنا غزہ جنگ کا حل ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حماس نے ماضی کے جنگ بندی معاہدوں کو ناکام بنایا اور جنگ کو لامحدود طور پر طول دیا۔تاہم یرغمالیوں کی رہائی کے لیے سرگرم فورم نے نیتن یاہو کے اس الزام کو یرغمالیوں کو واپس لانے میں ناکامی کا بہانہ قرار دیتے ہوئے کہا:”یہ تاخیری حربے اُن یرغمالیوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں جو تقریباً دو سال کی قید کے بعد مشکل سے زندہ ہیں، اور ساتھ ہی ان کی بازیابی کو بھی متاثر کرتے ہیں جو مر چکے ہیں۔”تنظیم کا مطالبہ ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ ایسے بہانے ختم کیے جائیں جو وقت حاصل کرنے اور اقتدار برقرار رکھنے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔