اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد اور آرمی چیف نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس کے رہنماؤں کے خلاف زمینی کارروائی کی مخالفت کی تھی، تاہم وزیر اعظم نتن یاہو نے ان تجاویز کو نظر انداز کرتے ہوئے فضائی آپریشن کا فیصلہ کیا۔موساد کا مؤقف امریکی اخبار کے مطابق موساد اور دیگر اداروں نے خبردار کیا تھا کہ دوحہ میں کارروائی سے قطر کے ساتھ تعلقات اور جاری مذاکرات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اسی لیے موساد نے صاف انکار کیا کہ وہ اس آپریشن کے پیچھے نہیں ہے۔وزیر دفاع اور شین بیت کا کردار
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع کاٹز نے اس حملے کی حمایت کی اور مقامی سطح پر سیکیورٹی دیکھنے والے ادارے شین بیت کے ساتھ مل کر فضائی کارروائی کی منظوری دی۔فضائی حملہ کیسے ہوا؟دوحہ پر حملے میں 8 ایف-15 اور 5 ایف-35 جنگی طیارے استعمال کیے گئے۔حملہ بحیرہ احمر سے کیا گیا۔امریکا کو صرف چند منٹ پہلے اطلاع دی گئی، اور جب قطر کو آگاہ کیا گیا تب تک حملے کو دس منٹ گزر چکے تھے۔ امریکی حکام کے مطابق، اس وقت تک طیاروں کو واپس بلانے یا روکنے کا کوئی امکان نہیں بچا تھا۔نتیجہ کیا نکلا؟اسرائیلی میڈیا کے مطابق اس حملے میں کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں ہوئی اور حماس کے رہنما محفوظ رہے۔مزید یہ بھی انکشاف ہوا کہ اسرائیلی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ نت زان کو بھی اس آپریشن کے بارے میں پہلے سے آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔