میکسیکو کا بڑا فیصلہ: چینی گاڑیوں پر ٹیرف 50 فیصد تک بڑھانے کا اعلان

سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق یہ فیصلہ درآمدی محصولات میں بڑی تبدیلی کے حصے کے طور پر کیا گیا ہے، جسے حکومت نے روزگار کے تحفظ کی کوشش قرار دیا ہے۔ تاہم معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد امریکا کو خوش کرنا بھی ہے، جو خطے کے ممالک پر چین کے ساتھ تعلقات محدود کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔وزارتِ معیشت کے مطابق نئی پالیسی کے تحت ٹیکسٹائل، اسٹیل اور آٹو سیکٹر سمیت مختلف شعبوں پر ٹیرف بڑھایا جائے گا، جس سے تقریباً 52 ارب ڈالر مالیت کی درآمدات متاثر ہوں گی۔فی الحال چینی گاڑیوں پر 20 فیصد ٹیرف عائد ہے، جسے اب بڑھا کر ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (WTO) کی جانب سے مقررہ زیادہ سے زیادہ سطح پر لے جایا جا رہا ہے۔وزیرِ معیشت مارسیلو ایبرارڈ نے وضاحت کی کہ اگر کچھ حد تک تحفظ نہ دیا جائے تو مقامی صنعت کا مقابلہ کرنا تقریباً ناممکن ہو جائے گا، اس لیے یہ اقدام میکسیکو میں ملازمتوں کو بچانے کے لیے ضروری ہے۔دوسری جانب چین کی وزارتِ خارجہ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ مختلف بہانوں کے تحت لگائی گئی پابندیوں کی مخالفت کرتا ہے اور امید کرتا ہے کہ میکسیکو عالمی معاشی بحالی اور تجارتی ترقی کے لیے تعاون کرے گا۔ ترجمان نے مزید کہا کہ چین اپنے حقوق اور مفادات کا مضبوطی سے دفاع کرے گا۔یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا مسلسل لاطینی امریکی ممالک پر زور دے رہا ہے کہ وہ چین کے ساتھ اپنے معاشی تعلقات کو محدود کریں۔