وزیراعظم شہباز شریف نے سندھ، بالخصوص کراچی میں سیلابی صورتحال کا فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اداروں کو متحرک رہنے اور متاثرہ افراد کو ریلیف فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔وزیراعظم نے گڈاپ ندی میں شہریوں کے ڈوبنے کے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور لاپتہ افراد کو تلاش کرنے کے لیے ریسکیو اداروں کو ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے ریسکیو 1122، پاک فوج اور رینجرز کی امدادی کارروائیوں کو بھی سراہا۔وزیراعظم نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کو سندھ اور کراچی میں جاری سیلابی صورتحال کے پیش نظر ریسکیو اور ریلیف آپریشن میں بھرپور تعاون کی ہدایت دی۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ عوام کو سیلابی خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے آگاہی مہم کو مزید تیز کیا جائے تاکہ شہری اپنی اور اپنے اہل خانہ کی جانوں کو محفوظ بنا سکیں۔اس سے قبل وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ حالیہ مون سون بارشوں اور سیلاب نے ملک بھر میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔ خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور پنجاب میں بارشوں اور سیلاب سے بھاری نقصان ہوا ہے۔وزیراعظم نے بتایا کہ ملک بھر میں سیلابی صورتحال کے باعث ایک ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب پانی سندھ کی وادی میں داخل ہو رہا ہے اور دعا ہے کہ نقصان کم سے کم ہو۔ انہوں نے زور دیا کہ نقصانات کے ازالے کے لیے وفاق کو صوبوں کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا۔اجلاس کے دوران وزیراعظم نے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بنانے کا بھی اعلان کیا، جس میں وفاقی وزرا، سیکریٹریز اور چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹری شامل ہوں گے۔ یہ کمیٹی متاثرہ علاقوں میں ریلیف اور بحالی کے اقدامات کی نگرانی کرے گی۔