یونان میں آبادی بڑھانے کے لیے انوکھی پیشکش، چار بچوں والے خاندانوں پر ٹیکس ختم

جہاں دنیا بڑھتی ہوئی آبادی سے پریشان ہے، وہیں یونان کو آبادی کم ہونے کا چیلنج درپیش ہے۔ اسی مسئلے سے نمٹنے کے لیے حکومت نے ایک بڑا قدم اٹھایا ہے اور ایسے خاندانوں کو خصوصی ریلیف دینے کا اعلان کیا ہے جن کے ہاں چار بچے ہوں گے۔حکومت کی نئی پالیسی یونان کی حکومت نے 1.4 ارب یورو کے راحتی منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت:چار بچوں والے کم آمدنی کے خاندانوں پر ٹیکس مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔تمام شہریوں کے لیے انکم ٹیکس کی شرح میں 2 فیصد کمی کی جائے گی۔چھوٹی بستیوں (جہاں آبادی 1500 سے کم ہے) کو بھی ٹیکس میں چھوٹ ملے گی۔یہ نئی پالیسی 2026 سے نافذالعمل ہوگی۔وزیر اعظم کا مؤقف یونان کے وزیر اعظم نے اس منصوبے کو پچھلے 50 سال کا سب سے بڑا ٹیکس ریفارم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا مقصد والدین کو بچوں کی پیدائش پر معاشی تعاون دینا اور ملک میں تیزی سے بڑھتی عمر رسیدہ آبادی کے مسئلے کو حل کرنا ہے۔وزیر اعظم نے کہا:’’اگر آپ کے ہاں اولاد نہیں ہے تو زندگی کی لاگت ایک الگ چیز ہے، لیکن دو یا تین بچوں کے ساتھ زندگی گزارنا بالکل مختلف ہوتا ہے۔ بطور قوم ہمیں ایسے شہریوں کو انعام دینا ہوگا۔‘‘یونان میں آبادی کا بحران اعداد و شمار کے مطابق یونان میں شرحِ پیدائش یورپ میں سب سے کم ہو چکی ہے، یہاں فی خاتون صرف 1.4 بچے ہیں۔ اگر یہی رجحان جاری رہا تو اندازہ ہے کہ:2050 تک یونان کی آبادی 80 لاکھ سے بھی کم ہو جائے گی۔36 فیصد شہری بوڑھے ہو چکے ہوں گے۔