کھٹمنڈو: نیپال میں سوشل میڈیا پر حکومتی پابندی کے خلاف شروع ہونے والے پرتشدد مظاہرے بڑے سیاسی بحران میں بدل گئے، جس کے نتیجے میں وزیراعظم کے پی شرما اولی نے استعفیٰ دے دیا۔پس منظر نیپال حکومت نے چند روز قبل سوشل میڈیا پر پابندی عائد کی تھی، جس کے خلاف عوام سڑکوں پر نکل آئے۔احتجاج شدت اختیار کر گیا تو دارالحکومت کھٹمنڈو سمیت مختلف شہروں میں تشدد پھوٹ پڑا۔سیاسی بحران احتجاجی لہر کے دوران وزیراعظم کے قریبی وزرا پر بدعنوانی کے الزامات سامنے آئے۔
دباؤ کے نتیجے میں وزیر داخلہ سمیت 4 وزرا پہلے ہی استعفیٰ دے چکے تھے۔اب وزیراعظم کے پی شرما اولی نے بھی اپنے عہدے سے دستبردار ہونے کا اعلان کر دیا۔
صورتحال کھٹمنڈو میں کرفیو کے باوجود مظاہرے جاری ہیں۔مظاہرین نے:پارلیمنٹ کے مرکزی دروازے کو آگ لگا دی۔سابق وزیراعظم شیر بہادر دیوبا کے گھر کو نذرِ آتش کر دیا۔کئی گاڑیوں کو بھی جلا ڈالا۔پولیس اور مظاہرین میں جھڑپوں کے نتیجے میں 20 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہو گئے۔کشیدہ صورتحال کے باعث کھٹمنڈو ایئرپورٹ کو جزوی طور پر بند کرنا پڑا اور پارلیمنٹ، صدر کی رہائش گاہ اور وزیراعظم آفس کے اطراف سخت کرفیو نافذ ہے۔پابندی ختم لیکن حالات قابو سے باہر پرتشدد مظاہروں کے بعد حکومت نے رات گئے سوشل میڈیا پر عائد پابندی ختم کر دی، تاہم احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا اور عوام نے کرپٹ حکومت سے استعفے کا مطالبہ تیز کر دیا۔