اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے مبینہ ڈیٹا لیکس پر وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ سبسکرائبر ڈیٹا صرف لائسنس یافتہ آپریٹرز کے پاس محفوظ ہے اور ابتدائی جائزے میں یہ ڈیٹا مختلف ذرائع سے جمع شدہ معلوم ہوتا ہے۔پی ٹی اے کے مطابق رپورٹ شدہ ڈیٹا میں فیملی تفصیلات، ٹریول ریکارڈز، گاڑیاں اور قومی شناختی کارڈ کی معلومات شامل ہیں، تاہم کسی بھی لائسنس یافتہ آپریٹر میں ڈیٹا بریچ کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔اتھارٹی نے مزید بتایا کہ غیر قانونی مواد کے خلاف کارروائی کے دوران 1372 ویب سائٹس، ایپس اور سوشل میڈیا پیجز بلاک کیے جا چکے ہیں۔دوسری جانب وزارت داخلہ نے مبینہ ڈیٹا لیکس کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی قائم کر دی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے موبائل سمز کا ڈیٹا لیک ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے نیشنل سائبر کرائمز انویسٹی گیشن ایجنسی کو فوری کارروائی کی ہدایت دی ہے۔ترجمان کے مطابق وزیر داخلہ کی ہدایت پر ایک خصوصی انویسٹی گیشن ٹیم بھی تشکیل دی گئی ہے جو ڈیٹا لیکج کے معاملے کی ہر پہلو سے تحقیقات کرے گی، ملوث عناصر کی نشاندہی کرے گی اور ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائے گی۔تحقیقاتی ٹیم کو 14 روز میں اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔