سیلاب کی تباہ کاریاں: 18 لاکھ ایکڑ فصلیں برباد، گندم و اجناس کے سنگین بحران کا خدشہ

سیلاب نے خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں تباہی مچانے کے بعد اب پنجاب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جہاں انسانی جانوں کے ضیاع اور گھروں، دکانوں و سرکاری انفرا اسٹرکچر کے نقصان کے ساتھ ساتھ 18 لاکھ ایکڑ پر کھڑی فصلیں بھی مکمل طور پر تباہ ہوگئیں۔ ماہرین کے مطابق اس کے نتیجے میں مستقبل قریب میں اجناس کے شدید بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت پر کسانوں کا اعتماد ختم ہوچکا ہے۔ اگر حکومت دوبارہ اعتماد بحال کرنا چاہتی ہے تو اسے گندم کو ڈی ریگولیٹ کرنے کے فیصلے پر قائم رہنا ہوگا اور نقل و حمل یا قیمتوں پر غیر ضروری پابندیاں نہیں لگانی چاہئیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ کاشتکار اتنے مایوس ہوچکے ہیں کہ آئندہ سال گندم کاشت کرنے سے گریز کرسکتے ہیں، جس سے ملک میں فوڈ سیکیورٹی کا سنگین بحران پیدا ہوگا۔ خالد کھوکھر نے مطالبہ کیا کہ حکومت کسانوں کو کھاد، بیج، ڈیزل اور دیگر زرعی اجناس مفت فراہم کرے تاکہ وہ دوبارہ کاشتکاری شروع کرسکیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے دنوں میں گندم، چاول، چینی اور سبزیوں کے بڑے بحران کا خدشہ ہے، جیسا کہ 2022 کے سندھ کے سیلاب کے بعد دیکھنے میں آیا تھا۔