سکھر : وومین ڈولپمنٹ ڈپارٹمنٹ کی صوبائی وزیر شہلا رضا سکھر پہنچ گئی، صوبائی وزیر نے سکھر وومین ڈولپمنٹ ڈپارٹمنٹ کی ریجنل آفیس کا افتتاح کیا، افتتاح کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے

سکھر : وومین ڈولپمنٹ ڈپارٹمنٹ کی صوبائی وزیر شہلا رضا سکھر پہنچ گئی، صوبائی وزیر نے سکھر وومین ڈولپمنٹ ڈپارٹمنٹ کی ریجنل آفیس کا افتتاح کیا، افتتاح کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر شہلا رضا نے کہا کہ ہم خواتین پر تشدد کے خلاف کام کر رہے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ خواتین کو معاشی طور پر مستحکم کرنے پر بھی کام ہو رہا ہے، خواتین اکانومیکل پروگرام سے 20 لاکھ خواتین مستفید ہوئیں اور وہ گھر کی کفالت کر رہی ہیں، لاڑکانہ کی ایک خاتون نے تیس لاکھ کا بزنس کیا ہے، انہوں نے کہا کہ محکمے میں افسران کی کمی کو مدنظر رکھتے ہوئے 17 گریڈ کے 32 افسران کا انتخاب کیا ہے، جو اسی سال تعینات ہوجائیں گے، شہلا رضا نے کہا کہ 27 اضلاع میں ہم نے خواتین کے لیے سیف ہاؤسز بنائے ہیں، ہم چائلڈ میریج ایکٹ پر کام کر رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ سندھ کے تمام دارالامان میں کھانے کا بجٹ زیادہ ہے، سکھر دارالامان میں باہر کی مداخلت ہے، خواتین 8-8 سالوں سے دارالامان میں رہ رہی ہیں، دارالامان کے قوانین میں صرف 90 روز تک رکھنے کی پالیسی ہے، سکھر دارالامان سے ایک خاتون نکل گئی پھر ایک سماجی تنظیم کی معرفت آکر پریس کانفرنس کر رہی ہے، اگر وہ عورت آتی تو کسی افسر کے ساتھ ملکر پریس کانفرنس کرتی لیکن دارالامان میں باہر کی مداخلت ہے اس پر تمام اسٹیک ہولڈرس کو سوچنا چاہیے، کیونکہ جتنی مداخلت ہوگی دارالامان میں اتنے ہی مسائل زیادہ ہوں گے، شہلا رضا نے کہا کہ سیاہ کاری ایسا عمل ہے کہ مقامی بڑے لوگوں کو پتہ ہوتا ہے، بڑے لوگوں کو بھی اس پر آواز اٹھانا چاہیے، معاشرے میں شعوری آگاہی کی بھی ضرورت ہے، گھر سے نکلنے والی بچی کے کیس میں اغوا اور ریپ کے دفعات شامل کرنا چاہیے، کسی کے بہکاوے میں آکر گھر سے نکلنے والی لڑکی کا اگر بے فارم موجود ہے تو میڈیکل کی کیا ضرورت ہے، ایسی کیسز میں فیصلے دینے والوں کو بھی سوچنا چاہیے، شہلا رضا نے کہا کہ ہم نے فیکٹری میں کام کرنے والی خواتین کے حوالے سے قانون بنایا ہے، ہراسمینٹ کا الگ قانون موجود ہے، جس کو اگر ہراساں کیا جائے تو وہ متعلقہ فورم کا استعمال کرے، اس خاتون کو تحفظ بھی فراہم کریں گے اور نوکری بھی بچائیں گے، بعدازاں سیاسی، سماجی شخصیات اور افسران سے میٹنگ کی جس میں ایڈیشنل سیشن جج ممتاز علی سولنگی، ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری ایڈووکیٹ الٰہی بخش میتلو، سکھر یونین آف جرنلسٹس کے جنرل سیکرٹری ساحل جوگی، وومین ڈولپمنٹ ڈپارٹمنٹ سکھر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر الطاف کھوسو، اسسٹنٹ ڈائریکٹر عبدالغفار تھیم، سکھر نیشنل پریس کلب کے سینئر نائب صدر رؤف عباسی، فیری ہوم کی انچارج ایڈووکیٹ فرزانہ کھوسو، سندھ ہیومن رائٹس کمیشن کے یاسر علی، ڈی آئی جی سکھر آفیس وومین سیل انچارج رخسانہ منگی، سکھر سینٹرل جیل کے سپرنٹنڈنٹ اشفاق کلوڑ و دیگر شریک ہوئے.