مظفرآباد ؛ یونان میں کشتی حادثے کے بعد غیرقانونی طور پر نوجوانوں کو یورپ بھیجنے والوں کے خلاف گھیرا تنگ کردیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومتی اداروں کی جانب سے پاکستانی نوجوانوں کو غیرقانونی طور پر یورپ بھیجنے اور انسانی اسمگلنگ میں ملوث گینگ کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کردیا گیا ہے، اس حوالے سے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس میرپور آزادکشمیر ڈاکٹر خالد محمود چوہان نے بتایا کہ یونان کشتی حادثے کے بعد انسانی اسمگلنگ میں ملوث افراد کے خلاف گرینڈ آپریشن شروع کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کارروائی عمل میں لاتے ہوئے کھوئی رٹہ پولیس نے انسانی اسمگلنگ میں ملوث 10ملزمان کو گرفتارکرکے ان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا جب کہ گرفتار ایجنٹس میں ایک ایجنٹ کا بیٹا بھی کشتی حادثے میں جاں حق ہوا ہے، مقدمے میں قتل اور فراڈ کی دفعات شامل کی گئی ہیں، دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں، معلوم ہوا ہے کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے پاکستانی نوجوانوں کو غیرقانونی طریقے سے یورپ بھیجنے والے ایک ایجنٹ کو کراچی ائیرپورٹ سے گرفتار کیا، ملزم ساجد محمود آذربائی جان فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا، گرفتار ملزم متعدد افراد کو غیرقانونی طریقے سے لیبیا بھیجنے میں ملوث تھا، اس حوالے سے تفتیش کا آغاز کردیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ جنوبی یونان کے ساحل پر تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے کے حادثے میں 298 پاکستانیوں کے جاں بحق ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، اب تک واقعے میں 79 افراد کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے، کشتی میں 310 پاکستانیوں کے سوار ہونے کی اطلاعات ہیں، ان میں سے 12 افراد کو زندہ بچا لیا گیا ہے، یونان میں پاکستانی سفارتخانے نے بھی اب تک 12 شہریوں کے زندہ بچ جانے کی تصدیق کی ہے۔پاکستانی سفارتخانے کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ یونانی حکام نے چوتھے روز بھی سرچ آپریشن جاری رکھا ہوا ہے، جاں بحق ہونے والوں کی شہریت کا علم نہیں، یونانی حکام نےاپیل کی کہ لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے صرف والدین یا بچوں کا ڈی این اے سیمپل بھیجا جائے، پاکستانی سفارتخانے کے حکام نے حادثے میں بچ جانے والے پاکستانیوں سے ملاقات بھی کی ہے۔