92

قمر جاوید باجوہ مارشل لا کے اشارے دے رہے تھے، ہم نے کہا بسم اللہ کرو:سابق صدرآصف علی زرداری

سابق صدر و پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید مارشل لا کے اشارے دے رہے تھےنجی نیوز چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں آصف علی زرداری نے کہا کہ جب قمر جاوید باجوہ نے مارشل لا کے اشارے دیے تو ہم نے کہا بسم اللہ کرو بھائی ہم کھیتی باڑی کرتے ہیں تم ملک چلاؤ، لیکن وہ ہمارے جواب پر پیچھے ہٹ گئے کہ یہ نہیں ہو سکتا،آصف علی زرداری نے کہا کہ قمر جاوید باجوہ نے ہمیں بلا کر کہا کہ آپ کہیں میں اس (عمران خان) سے استعفیٰ لے لیتا ہوں آپ لوگ الیکشن میں چلے جائیں، لیکن میں نے اور مولانا فضل الرحمان نے منع کر دیا،سابق صدر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ عمران خان 2035 تک حکومت کرنے کا پلان بنا کر بیٹھے تھے اور اپنا آرمی چیف لانا چاہتے تھے،انہوں نے کہا کہ لڑائی پنجاب کی ہے مگر پورے ملک کو متاثر کرتی ہے، پاکستان میں ایک ہی دن میں الیکشن ہوتے ہیں تو یہ آئینی حق ہے، ہمیں الیکشن پر نہیں ہمیں ٹائمنگ پر اعتراض ہے، تمام جماعتیں بیٹھ کر فیصلہ کریں جتنی جلدی ہو سکے الیکشن ہوں، کوشش ہے کہ اکتوبر میں ملک بھر میں الیکشن ہو جائیں مگر دیکھتے ہیں کیا حالات ہوتے ہیں، یہ کہنا قبل ازوقت ہے کہ آئندہ الیکشن کس طرح لڑیں گے،ان کا کہنا تھا کہ موجودہ اپوزیشن پر کون سا غلط کیس بنا ہے ایک بتا دیں، میرے اور عمران خان کے ڈومیسائل میں فرق ہے سندھ ڈومیسائل والا بھی وزیراعظم بن سکتا ہے،سابق امریکی سفارت کار زلمے خلیل زاد کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ تو تنخواہ دار ہے، کسی لابی نے زلمے خلیل زاد کو رکھا ہے وہ ایجنٹ ہے،انٹرویو میں آصف علی زرداری نے کہا کہ ہم کوشش تو یہ ہی کر رہے ہیں کہ پاکستان کا آئین محفوظ رہے، ججز کی تنخواہیں اس لیے بڑھائی تھیں تاکہ اچھے لوگ آئیں لیکن کیا پتا تھا کہ اجارہ داری ہوگی، بلاول بھٹو نے کہا کہ ایک عمران خان کو نکالا ہے اس کے حواری ابھی موجود ہیں،مہنگائی سے متعلق انہوں نے کہا کہ کیا ہمیں نہیں پتا مہنگائی ہو رہی ہے؟ بیرون ملک سے اشیا مہنگی آ رہی ہیں اور ملک میں بھی ڈالر نہیں ہے؛

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں